حیاتِ نور — Page 706
ــور 2+1 ہیں؟۔اس فقرہ سے میں نے آپ کی طبیعت میں سخت رکاوٹ محسوس کی۔اس وقت میں چار پائی کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔میں نے فوراً حضرت خلیفہ اول کو اونچی آواز سے کہا کہ حضور یہ صرف چلنے والوں کو آرام دینے کے لئے کیا ہے ورنہ ویسے آپ نواب صاحب کی کوٹھی پر ہی جا رہے ہیں۔میری یہ بات سن کر حضرت خلیفہ اول کو اطمینان ہو گیا اور پھر ہم چار پائی لے کر آگے چل پڑے: “ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الفضل کے رپورٹر نے اپنے قیاس سے رپورٹ لکھی ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو ان ایام میں ایڈیٹر افضل تھے۔آپ تو جمعرات کو ہمراہی حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلالپوری وزیر آباد کی مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے۔پیچھے آپ کے قائمقام یقیناً اتنے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔جتنے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب تھے اور وہ اپنا چشمدید واقعہ بھی بیان نہیں کر رہے۔رپورٹ درج کر رہے ہیں جو ہو سکتا ہے انہوں نے خود مرتب کی ہو یا یہ بھی ممکن ہے اخبار کے کسی رپورٹر نے لکھ کر دی ہو۔بہر حال اسے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ایسے عینی شاہد کے بیان کے مقابلہ میں ترجیح نہیں دی جاسکتی۔الفضل کی رپورٹ سے اس امر کا تو یقینی طور پر پتہ چل جاتا ہے کہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی درخواست کے باوجود بعض ذمہ دار لوگ یہ چاہتے تھے کہ حضور کو نواب صاحب کی کوٹھی پر نہ لے جایا جائے۔بلکہ بورڈنگ ہاؤس میں ہی رکھا جائے۔سبھی تو حضرت نواب صاحب کو مکرر درخواست کرنا پڑی کہ حضور ان کی کوٹھی دار السلام میں تشریف لے چلیں۔جسے حضور نے منظور فرمالیا۔اس لئے بالکل ممکن ہے کہ بورڈنگ ہاؤس کے سامنے پہنچ کر انہوں نے ایک مرتبہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کی مزید کوشش کی ہو اور چار پانی کو نیچے رکھ دیا ہو جس سے رپورٹر نے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ حضور کے ارادے اور ارشاد کے بغیر یہ بھلا کیونکر رک سکتے تھے یقیناً حضور نے ہی فرمایا ہوگا اور بورڈ روں کا صف بستہ کھڑے ہو کر السلام علیکم یا امیر المومنین کہنا اور بھی اس کے اس قیاس میں محمد ہو سکتا تھا۔بہر حال یہ خاکسار کی دیانتدارانہ رائے ہے۔واللہ اعلم بالصواب اشتراک اور امتیاز دونوں کا قائم رکھنا ضروری ہے ، شروع مارچ ۱۹۱۴ء حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ہمارے محترم بھائی ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے ایک سوال پر حضرت