حیاتِ نور

by Other Authors

Page 705 of 831

حیاتِ نور — Page 705

کر نواب صاحب کے مکان کی طرف چل پڑا۔اس دعا کے نتیجے میں خدا تعالٰی نے مجھے اور ہمارے سب خاندان کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھالی کہ حضرت موضوع خلیفہ اسیح الثانی کا انتخاب ہو گیا۔۳۳ یادر ہے کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بورڈنگ ہاؤس کے پاس حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی چارپائی عمد ارو کی گئی تھی۔لیکن جب ہم اس زمانہ کے اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں تو " الفضل میں یہ لکھا پاتے ہیں : بعض دوستوں کی رائے کے مطابق دارالعلوم کے بورڈنگ ہاؤس کی بالائی منزل خالی کرائی گئی۔اس کے درمیانی کمرے میں ایک دیوار کھڑی کی گئی تھی۔اسے نکال دیا گیا۔اوپر چڑھانے کے واسطے میزوں کی سیڑھی بنائی گئی۔لیکن بعد از نماز جمعہ نواب محمد علی خاں صاحب کی مکرر درخواست کی بناء پر حضور کو نواب صاحب کی کوٹھی ( دار السلام) میں پہنچایا گیا۔راہ میں بورڈ رز صف بستہ کھڑے عرض کر رہے تھے۔السلام علیک یا امیر المومنین ! حضور نے ڈولی ٹھہرانے کا حکم دیا۔ان کے لئے با چشم پر آب۔۔۔۔۔دعا کی اور مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا۔انہیں نصیحت کر دینا۔آپ کے اہل و عیال بھی آپ کے ساتھ ہیں وہاں کا منظر آپ کو پسند ہے۔دو راتیں یعنی اتوار اور سوموار کی رات کو بے چینی بہت رہی۔آج رات دو بجے تک بے آرامی تھی۔میاں شریف احمد صاحب کو جو پہلی کے درد کے سبب آپ کو ٹکور کر رہے تھے۔فرمایا کہ آپ کی مہربانی سے اب کچھ افاقہ ہے اور پانچ بجے کے قریب آرام فرمایا۔نمبر پچر سوموار کی صبح کو ایک سو درجہ تھا اور منگل کی صبح ۹۷ تھا۔طبیعت میں کمزوری بہت ہے“۔ایڈیٹر صاحب الفضل“ کی اس رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چار پائی عمد ا نہیں روکی گئی تھی بلکہ بورڈ رز کو دیکھ کر حضرت خلیفہ المسیح الاول نے خود ڈ ولی ٹھہرانے کا حکم دیا۔بظاہر ان دونوں حوالوں میں تطبیق دینا بہت مشکل ہے۔لیکن اگر بنظر تعمق دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا بیان زیادہ وزنی ہے کیونکہ آپ ایک عینی شاہد کے طور پر فرماتے ہیں :۔چار پائی وہاں روکی گئی۔تو حضرت خلیفہ اول نے نظر اٹھا کر دیکھا اور حسرت سے فرمایا ( میں یہ الفاظ سن رہا تھا) کہ نہیں یہ اس جگہ مجھے لا رہے