حیاتِ نور — Page 693
۶۸۸ کے خلاف کیا۔چھاپ کر بھیجتے ہو اور پھر اشاعت کی اجازت مانگتے ہو۔اس قسم کے لوگ قرآن کے خلاف کرتے ہیں اور وہ قوم میں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک ہاتھ پر جمع کیا تھا۔تفرقہ ڈلوانا چاہتے ہیں۔ان سے بچو۔پھر کسی نے کہا۔گھوڑی سے گرے ہیں۔یہ گھوڑی خلافت کی گھوڑی ہے۔استقامت میں فرق آ گیا۔ایسے شریر جھوٹے ہیں۔خدا نے مجھے اس کا جواب سمجھا دیا ہے۔جو لمبا جواب ہے۔میں تمہیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے بچتے رہو اور بد خلقیاں چھوڑ دو۔ایسے معترضین کا اشارہ در اصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس رویا کی طرف تھا۔جو آپ کو ر ۱۶ار مارچ ۱۹۰۳ء کو ہوئی اور جو یہ تھی : رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا۔پھر آنکھ کھل گئی۔سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں۔قیاسی طور پر جو بات اقرب ہو دے لگائی جاسکتی ہے کہ اسی اثناء میں غنودگی غالب آئی اور الہام ہوا۔استقامت میں فرق آ گیا۔ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ معلوم تو ہے۔مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو۔میں بتلایا نہیں کرتا۔میرا کام دعا کرنا ہے۔" اس رڈیا کا بغور مطالعہ کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انتشار عنمائر ہے۔یعنی گھوڑے سے گرنے والا اور مشخص ہے اور جس کی استقامت میں فرق آ گیا وہ اور ہے۔البتہ ان دونوں کا تعلق ضرور ہے۔جب ہم اس رویا کو واقعات پر چسپاں کرتے ہیں۔تو یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ جب حضرت خلیفہ المسیح الاول گھوڑے سے گرے اور آپ نے خلافت کی وصیت سید نا محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حق میں کر دی۔تو جناب مولوی محمد علی صاحب جو یہ سمجھتے تھے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے بعد ہم لوگ کسی شخص کو خلیفہ تسلیم نہیں کریں گے اور اپنی من مانی کاروائیاں کریں گے۔ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔اور پھر دن بدن ان کے تعلقات سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ساتھ کشیدہ ہوتے گئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اصبح الاول کو اللہ تعالی نے ان حالات سے آگاہ فرما دیا