حیاتِ نور

by Other Authors

Page 691 of 831

حیاتِ نور — Page 691

عبور کر لیتے ۱۸ YAY اتِ نُـ ـور اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ اس بڑھاپے میں گورکھی پڑھنے سے حضور کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ چاہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اطلبوا العلم من المهد الى الله کو اپنے عمل سے پورا کر دکھا ئیں۔ورنہ اس بڑھاپے میں آپ گورمکھی سے کیا فائدہ اٹھا سکتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو ختم قرآن کے بارہ میں ارشاد، ۶ نومبر ۱۹۱۳ ء حضور نے ۶ نومبر ۱۹۱۳ء کے روز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا: ”میاں کل جمعہ ہے۔اگر زندگی باقی ہے تو تمہیں ہفتہ کے روز قرآن ختم کرا دینے کا ارادہ ہے۔ورنہ میرے بعد اپنے بھائی سے ختم کر لیا۔1 ولادت صاحبزادہ محمد عبد الله صاحب ، ۱۸/ نومبر ۱۹۱۳ء ۱۸ نومبر 1913ء کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچواں فرزند عطا فرمایا۔جس کا نام آپ نے عبداللہ رکھا۔یہ بیٹا بھی ایک نشان تھا۔کیونکہ جن دنوں آپ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے شدید بیمار تھے۔اور ڈاکٹر آپ کی زندگی سے مایوس تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دی تھی۔چنانچہ اس ! وقت حضور نے فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ میری جیب میں کسی نے ایک روپی ڈال دیا ہے۔اس کی نے دیا کی تفہیم یہ ہے کہ ایک لڑکا ہوگا“۔" اسی طرح ایک دوسرے موقعہ پر حضور نے فرمایا: ” جب میں بہت بیمار ہو گیا تھا۔تو ان ایام میں ہمارے ڈاکٹروں نے میری بڑی خدمت کی۔ڈاکٹر الہی بخش صاحب رات کو بھی دباتے رہتے۔انہوں نے بہت ہی خدمت کی۔میرا رونگٹا رونگٹا ان کا احسان مند ہے۔ایسا ہی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بہت خدمت کرتے رہتے ہیں۔مگر ان کو میرے بچنے کی امید نہ تھی۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے ایک بیٹے کی بشارت دی۔جواب پوری ہوئی۔فالحمد للہ