حیاتِ نور — Page 686
ور افسوس کیا۔بطور مثال چند تحریرات پیش ہیں۔ΥΛΙ ۱ ۱۹۱۳ء میں خواجہ کمال الدین صاحب انگلستان میں تھے۔انہیں آپ نے ۶ مئی ۱۹۱۳ء کو اپنی ایک پرانی یادداشت کی بناء پر خط لکھا کہ : ایک میری پرانی یادداشت ہے اس کے صفحات کی نقل مرسل خدمت ہے۔ایک مضمون ایک انجمن میں بصدارت نورالدین پیش ہو۔اس پر رائے زنی ہو۔آہ آہ آہ - اس پر کیا لکھوں۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔اللہ ہی توفیق دے۔وما توفیقی الا باللہ۔آپ کو معلوم ہے ہمہ یاراں بہشت ایک مثل ہے۔مکرم میاں محمود احمد سے تو ان کو مناسبت نہیں۔ہمیشہ ان کی تحقیر ان کے مدنظر ہے۔نواب صاحب، میر ناصر نواب بھی معیوب ہیں (ممکن ہے اصل لفظ معتوب ہو۔ناقل ) گویا انجمن نام ہے شیخ صاحب رحمت اللہ۔عزیزان محمد حسین شاہ صاحب ڈاکٹر ، مرزا یعقوب بیگ صاحب ڈاکٹر ،مکرم مولوی محمد علی صاحب، مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر۔یہ پانچ کورم پورا ہوا۔جو چاہیں کریں۔پہلے محمود کو جب سخت ست کہا وہ (انجمن کے اجلاس میں جانے سے۔ناقل ) رک گیا۔مگر مدت کے بعد اس کو سمجھایا کہ اب غالباً سرد ہو گئے ہوں گے۔آپ جایا کریں۔وہ گئے۔کسی معاملہ پر ایک نے کہا۔آپ صدر الدین کے معاملہ میں ہرگز نہ بولا کرو۔اس پر محمود نے مجھے رنج آلودہ خط لکھا۔جس پر میں نے ملامت اور نصیحت لکھ کر ڈاکٹروں کو دیدیا۔پھر مولوی محمد علی صاحب کو تحریر لکھا۔جس پر جواب نہ ملا۔انا للہ وانا الیہ راجعون میرے مرنے پر ان کو ضرور دقت پیش آئے تھی مگر اصلاح نہ ہوئی۔افسوس ۱۵ ها ۲- جناب خواجہ کمال الدین صاحب کو ہی ایک دوسرے مکتوب میں آپ تحریر فرماتے ہیں: مجھے ابتداء آپ لوگوں نے دبایا۔مدت تک اس مصیبت میں رہا۔جب کبھی نکلنا چاہا رنگ برنگ مالی بدظنی ہوتی رہی۔آخر بحمد للہ نجات ملی۔الحمد للہ رب العالمین۔پھر باہم تنازع شروع ہوئے۔اس موقع پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے تعلق رکھنے والے احباب کا پیش کردہ ایک فقرہ بھی درج کر دیا جائے۔جس کے متعلق ان کا دعوی ہے کہ ۱۳ مئی ۱۹۱۳ ء کو حضرت خلیفة المسیح الاول نے جو خط جناب خواجہ کمال الدین صاحب کو لکھا تھا۔اس میں سے یہ فقرہ لیا گیا ہے