حیاتِ نور

by Other Authors

Page 676 of 831

حیاتِ نور — Page 676

اتِ نُـ ـور کی۔اور جن لوگوں نے میری نسبت یہ خیال پھیلایا ہے۔انہوں نے میرا خون کیا ہے۔وہ میرے قاتل اور خدا کے حضوران الزامات کے جوابدہ ہوں گے۔” جب حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں۔اس وقت میری عمر انیس سال کی تھی اور ہندوستان میں انیس سال کی عمر میں ابھی کھیلنے کودنے کے ہی دن سمجھے جاتے ہیں۔پس میری عمر بچپن کی حالت سے زیادہ نہیں ہوئی تھی جب سے میں نے یہ جھوٹ بولا جاتے ہوئے سنا۔میرے اس دوست نے جس نے مجھے یہ خط لکھا ہے۔آج یہ اعتراض کیا ہے۔مگر یہ اعتراض بہت پرانا ہے اور اس وقت سے میں اس کو سنتا آ رہا ہوں جب کہ میں اس کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔جس وقت خلافت ( اور انجمن۔ناقل ) کا جھگڑا ہوا ہے۔اس وقت میرے کانوں میں یہ آواز میں پڑی تھیں کہ بعض نوجوان خلیفہ بننے کی خواہش میں یہ شورش بپا کر رہے ہیں۔میرے کان اس بات کو سنتے تھے۔مگر میرا دماغ ان کے معنوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔کیونکہ میرا دل پاک تھا اور بالکل بے لوث تھا اور اس پر ہوا و ہوس کے غبار نے کوئی اثر نہ کیا تھا۔میں نے معلوم کیا کہ ان انگلیوں کا اشارہ میری طرف ہے اور ان اقوال کا مخاطب میں ہوں۔میری اس وقت کیا عمر تھی اور ایسے وقت میں میرے دل پر کیا صدمات گزر سکتے تھے۔اسے خدا ہی جانتا ہے۔میرا کوئی دوست نہ تھا۔جس سے میں اس دکھ کا اظہار کر سکوں۔کیونکہ میری طبیعت بچپن سے ہی اپنے دکھ لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے رکھتی ہے۔میرے دل پر وہ اقوال فنجر اور تلوار کی ضرب سے بڑھ کر پڑتے تھے اور میرے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے تھے۔مگر خدا کے سوا کسی سے اپنے دردوں کا اظہار نہ کرتا تھا اور اگر کرتا تو لوگ مجھے کیا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔میں نے ان لوگوں کے بغض سے جنہوں نے یہ باتیں میرے حق میں کیں، ہمیشہ اپنے آپ کو بچائے رکھا اور اپنے دل کو میلا نہ ہونے دیا۔لیکن بع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی میں سمجھتا تھا کہ چند دن کا فتنہ ہے۔جو خود بخود دور ہو جائے گا۔مگر اس فتنہ نے اپنی لمبائی میں شب ہجر کو بھی مات کر دیا اور گھٹنے کی بجائے اور بڑھا۔میں نے