حیاتِ نور — Page 675
۶۷۰ لیکن باوجود اس کے جو گناہ سرزد نہ ہو۔اس کی طرف منسوب ہونے پر دل گھبراتا ضرور ہے۔جو حملے آں مکرم نے کئے ہیں۔اس کا جواب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ میں نے یوں نہیں کیا اور آپ نے صرف بدظنی سے کام لیا ہے اور اعتراض کرنے میں جلدی کی ہے۔اگر یہ خطہ اکیلا آتا اور اس کے سوا اور میں کوئی آواز نہ سنتا تو میں بالکل خاموش رہتا۔لیکن آج پانچ سال کے قریب ہونے کو آیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات میں سنتا آ رہا ہوں۔لیکن پہلے تو افواہا ان اعتراضات کا علم ہوتا تھا اور اب کچھ مدت سے تحریر بھی یہ الزامات مجھ پر قائم کئے جانے لگے ہیں اور صرف مجھی تک بس نہیں بلکہ ٹریکٹوں کے ذریعہ یہ خیال تمام جماعت احمدیہ میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے اور جن دوستوں تک اظہار حق نامی ٹریکٹ جولاہور سے کسی گمنام صاحب کی طرف سے شائع ہوا ہے۔پہنچا ہے اور اکثر پہنچا ہو گا۔کیونکہ وہ پنجاب و ہندوستان میں بکثرت شائع کیا گیا ہے۔ان کو علم ہو گیا ہو گا کہ اب یہ معاملہ زبانوں سے گزرکر تحریر تک اور تحریر سے گزر کر اشاعت تک جا پہنچا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مجملا اس کے متعلق کچھ لکھا جائے۔میں حیران ہوں کہ اس معاملہ پر کچھ لکھوں تو کیا لکھوں۔آخر وہ کون سے دلائل ہیں جن کو توڑوں۔جب سب معاملہ کی بناء ہی بدظنی پر ہے۔تو بدظنی میں دلائل کیا دوں۔عقلی مسئلہ ہو تو اس کا جواب دلائل عقلیہ سے دیا جائے۔لیکن جب یہ معاملہ ہی رویت و سماعت کا ہے تو جب تک میری تحریر یا تقریر سے یہ الزامات مجھ پر ثابت نہ کئے جائیں۔اس وقت تک میں ان الزامات کا کیا جواب دے سکتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔میں جواب دینے سے مجبور ہوں اور موجودہ صورت میں اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ شاہد ہے اور میں اس کو حاضر ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی اس امر کی کوشش نہیں کی کہ میں خلیفہ ہو جاؤں۔نہ یہ کہ کوشش نہیں کی۔بلکہ کوشش کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہیں آیا اور نہ میں نے کبھی یہ امید ظاہر کی اور نہ میرے دل نے کبھی خواہش ـور