حیاتِ نور

by Other Authors

Page 658 of 831

حیاتِ نور — Page 658

ـور ۶۵۳ غفلت سے کام لیں۔تو اس پاک نفس کی ساری اصلاح پر پانی پھر جاتا ہے اور خود غرض اور نفس پرست انسان اس نئی تیار شدہ اور اصلاح یافتہ قوم کی تمام طاقت کو اندر ہی اندر سلب کر دیتا ہے۔اور پھر وہ قوم اپنی پوری طاقت سے مخالفین حقہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اگر کرتی بھی ہے تو بہت جلد اسے اندرونی جھگڑے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔مگر غور کرو۔شیعہ سنی، خارجی کا وجود کہاں سے پیدا ہوا۔مامور، رسول اور نبی کی شخصیت تک تو ان سب کا آپس میں اتفاق ہے۔پھر فرمائیے۔ان کا وجود کیسے ظہور پذیر ہوا۔آخر مانا پڑے گا کہ مامورشخص کی وفات کے بعد غیر ماموروں کی جانشینی نے اسلام کو تفرقوں کا آماجگاہ بنا دیا ہے اور خلافت کا مسئلہ ایسا اسلام کے لئے وبال جان ثابت ہوا کہ اس نے مسلمانوں کی دین و دنیا کو تباہ کر دیا۔جواب جب انسان ایک قدم غلط اٹھاتا ہے۔تو پھر اس کے بعد جو بھی قدم اٹھائے گا۔وہ اسے غلط سمت کی طرف ہی لے جائے گا۔ٹریکٹ نویس کے دل میں چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح اول اور حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق بغض اور عداوت بھری ہوئی ہے۔اس لئے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو خلافت راشدہ قائم ہوئی۔اور جس کے زمانہ میں اسلام آنا فانا ساری معلوم دنیا میں پھیل گیا۔اس خلافت کو بھی اسلام میں تفرقوں کا آماجگاہ قرار دیا ہے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالیٰ نے تو آیت استخلاف میں خلافت کو مسلمانوں کے لئے رحمت اور برکت اور دین کو مضبوط کرنے اور خوف کو امن سے بدلنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔مگر یہ شخص کہتا ہے کہ شیعہ سنی اور خارجی وغیرہ تمام فرقے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شخصی خلافت کی پیداوار ہیں۔حالانکہ اس مبارک زمانہ میں فرقہ بندی کا نام تک نہ تھا۔اور مسلمانوں کی تمام توجہ اعمال صالحہ کی بجا آوری اور اشاعت دین کی طرف لگی ہوئی تھی۔جو فتنے بھی اسلام کے خلاف اس زمانہ میں اندرونی یا بیرونی طور پر کھڑے ہوئے۔خلفائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خوب اچھی طرح سے قلع قمع کیا اور محض شخصی خلافت کی وجہ سے مسلمانوں کی تنظیم کی دھاک تمام عالم میں بیٹھ گئی۔ایسا ہی اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد احمدی قوم حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کے ہاتھ پر جمع نہ ہوتی۔تو وہ زلزلہ جو جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی