حیاتِ نور

by Other Authors

Page 657 of 831

حیاتِ نور — Page 657

۶۵۲ ـور لکھا گیا۔تو اس کی ذمہ داری بھی انہی پر ہوگی۔راقم محمد منظور الہی ، میں ہر حرف سے متفق ہوں۔سید انعام اللہ شاہ لے اس لئے حضرت خلیفہ المسیح اول نے اراکین انجمن انصار اللہ کو فرمایا کہ ان ٹریکٹوں کا جواب تیار چکر کے شائع کرو۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل میں انجمن مذکور نے پہلے ٹریکٹ کے جواب میں مسالہ خلافت احمدیہ اور دوسرے ٹریکٹ کے جواب میں رسالہ اظہار حقیقت“ لکھا۔اور جب ان رسالوں کا مسودہ حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت میں پیش ہوا۔تو حضور نے اسے شروع سے لے کر آخر 66 تک دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اس مسودہ میں حسب ذیل الفاظ کا اضافہ فرمایا: ہزار ملامت ہو پیغام پر جس نے اپنی چٹھی کو شائع کر کے ہمیں پیغام جنگ دیا۔اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔الفتنہ نائمہ لعن اللہ من انقضھا۔( سوئے ہوئے فتنہ کو جگانے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔" اس موقعہ پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۳۷ء میں استاذی المکرم حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل حلالپوری نے بھی ایک رسالہ بنام بعض خاص کارنامے شائع فرمایا تھا۔جس میں مذکورہ بالا ٹر یکٹوں کو من و عن نقل کر دیا گیا ہے اور ان میں درج شدہ وساوس کا بھی لطیف پیرایہ میں ازالہ فرمایا گیا ہے۔فجز اء اللہ احسن الجزاء ان ٹریکٹوں میں لگائے گئے الزامات میں سے کئی ایک کا جواب چونکہ اس کتاب کے گزشتہ صفحات میں آچکا ہے۔اس لئے یہاں انہیں من و عن نقل نہیں کیا گیا۔بلکہ صرف انہی حصوں کو لیا گیا ہے جن کا جواب نہیں آیا۔البتہ ان حصوں کو بھی لے لیا گیا ہے۔جو ان مضامین کی روح تھے۔تا ٹریکٹ لکھنے والے کی افتاد طبع کا پتہ لگ سکے۔اب ہم ان ٹریکٹوں میں درج شدہ وساوس کو ٹریکٹ لکھنے والے کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔اور پھر تھوڑے تھوڑے حصہ کا ساتھ ساتھ جواب بھی عرض کرتے جاتے ہیں۔تا قارئین کو حقیقت حال معلوم کرنے میں آسانی ہو۔خلاصہ ٹریکٹ اظہار الحق نمبرا (صرف احمدی احباب کے لئے ، غیر احمدی کو ہرگز نہ دکھایا جاوے) سوال: ایک مامور، نبی اور رسول کی جانشینی کا مسئلہ اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ اگر اس مامور کے خاص خدام اس کی وفات کے بعد اس بارہ میں ذرا بھی