حیاتِ نور — Page 656
ـور ۶۵۱ بس تواں باب منکرین خلافت کے خُفیہ ٹریکٹوں کے جوابات حضرت خلیفہ مسیح کی بیماری وصیت، وفات انتخاب خلافت ثانیہ کے حالات منکرین خلافت کے خفیہ ٹریکٹ ، شروع اکتو بر ۱۹۱۳ء یچھے منکرین خلافت کی سرگرمیوں کا ذکر ہو چکا ہے۔ان لوگوں نے جب دیکھا کہ ”پیغام صلح کے ذریعہ ہم جماعت قادیان کو بدنام تو کر سکتے ہیں۔لیکن ہمارا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ حضرت خلیفة المسیح اول، خاندان حضرت اقدس خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف بھی جماعت کو پورے طور پر بدظن نہ کر لیا جائے اور یہ کام چونکہ پیغام صلح کے ذریعہ بطریق احسن سر انجام نہیں دیا جا سکتا تھا۔اس لئے ان لوگوں نے اظہار الحق کے عنوان سے دو ٹریکٹ نکالے۔جن میں حضرت خلیفتہ المسیح اور خاندان حضرت مسیح موعود پر خوب جی بھر کر حملے کئے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔مگر بزدلی دیکھئے کہ ٹریکٹوں کے آخر میں داعی الی الوصیت“ کے الفاظ کے بعد جہاں ٹریکٹ لکھنے والے کا نام لکھا تھا۔اسے چھپوانے کے بعد قینچی سے کاٹ دیا گیا۔تا جماعت کے احباب اس کے پاس جا کر اس سے ٹریکٹوں میں لگائے گئے الزامات کا ثبوت نہ طلب کر سکیں۔جماعت کو ان گمنام ٹریکٹوں کا جواب دینے کی تو ضرورت نہ تھی۔کیونکہ جب شائع کنندہ نے اپنا نام ہی ظاہر نہیں کیا۔تو قوم پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا تھا۔لیکن چونکہ اخبار 'پیغام صلح والوں نے ان کے مندرجات کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ جوٹر یکٹ ہم نے دیکھے ہیں۔ان میں ذرہ شک نہیں کہ اکثر با تیں ان کی سچی ہیں“۔نیز یہ بھی لکھا کہ ٹریکٹ ہائے کی بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہوری انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔تو ہماری طرف سے اگر کچھ کی بیٹی کا کلمہ