حیاتِ نور — Page 651
ـور اور اس کے رسول کا نام پہنچا دیں۔اتنا ہی غنیمت ہے۔نمازوں میں غفلت مت کرو۔قرآن کریم ضرور پڑھو۔دعا ئیں بہت مانگو۔وہ آپ کا جرمن دوست کیا ہوا۔پھر آپ نے ان کا حال نہ لکھا تعجب ہے۔والسلام ار نورالدین ۱۶ ستمبر ۱۹۱۳ء " کے یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول جناب چودھری صاحب کو پیار سے بعض اوقات ظفر اللہ باشی وغیرہ الفاظ سے بھی یا دفرمایا کرتے تھے۔مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا ذکر خیر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند سے آپ کی ملاقات کا ذکر پہلے کسی جگہ ہو چکا ہے۔اس لئے گو اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔مگر جس رنگ میں اب ذکر آ رہا ہے۔اس سے چونکہ حضرت مولوی صاحب موصوف کی طبیعت اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔اس لئے دوبارہ ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں نے ابو القاسم نانوتوی صاحب کو دیکھا ہے۔بڑے تیز آدمی تھے۔فلسفیانہ طبع تھے ہر سوال کا جواب فورا دیتے تھے۔دیانند ان کے مقابلے میں آنے سے ڈرتا تھا۔ایک دفعہ حدیث پڑھا رہے تھے۔ایک حدیث میں آیا کہ آخری زمانہ میں مال کم ہو گا۔اس کے بعد ایک اور حدیث آئی کہ کسی جگہ سونا نکلے گا۔میں نے چاہا کہ سوال کروں۔ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حضور پہلی تو فوراً سمجھ گئے۔اور جھٹ جواب دیا کہ میاں! کیا تم نے چراغ بجھتا ہو انہیں دیکھا۔میں بھی جواب سمجھ گیا اور خاموش ہو گیا۔مطلب یہ تھا کہ بجھتے بجھتے چراغ کی روشنی یک دفعہ آخر میں بھڑک اٹھتی ہے۔یہ آخری جوش ہوتا ہے"۔فرمایا: ان کی دو کتابیں بہ عمدہ ہیں۔مگر عبار عام نہم نہیں۔ایک تقریر دلیل کی۔دوسوی قبلہ نما“۔ہے