حیاتِ نور

by Other Authors

Page 633 of 831

حیاتِ نور — Page 633

ور ۶۲۸ والے نے جھوٹ کہا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے فضل کئے۔پھر ہمیں ایسے موقعہ پر ناطہ دیا کہ تم تعجب کرو۔جموں کا رئیس بیمار تھا۔اس نے بہت دوائیں کیں۔کچھ فائدہ نہ ہوا۔تو فقراء کی طرف متوجہ ہوا۔جب ہند و فقراء سے فائدہ نہ ہوا۔تو مسلمان فقراء کی طرف توجہ کی اور ان سب فقراء کو بڑا روپیہ دیا۔ایک میرا دوست جو اس روپے کے خرچ کا آفیسر تھا۔اس نے ذکر کیا کہ تین لاکھ تو خرچ ہو چکا۔اب ایک فقیر بنا ہے۔جسے بلانے کے لئے آدمی گیا اور اس کے لئے اتنے ہزار روپے تھے مگر اس کا خط آیا۔اس میں لکھا تھا کہ میرا کام تو دعا کرنا ہے۔دعا جیسی لودھیا نہ میں ہوسکتی ہے۔ویسی ہی کشمیر میں۔دونوں جگہ کا خدا ایک ہے۔وہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ہاں ایک بات ہے۔اگر آپ کا رعایا سے اچھا سلوک نہیں۔تو اس کے افراد بددعا ئیں دے رہے ہوں گے۔تو میں ایک دعا کرنے والا کیا کر سکتا ہوں۔باقی رہے روپئے۔سو جب آپ نے فقیر سمجھا ہے تو پھر غنی نہیں ہو سکتا۔اس آفیسر نے کہا کہ میں نے نہ ایسا آدمی ہندوؤں میں دیکھا ہے نہ مسلمانوں میں۔میں نے کہا۔سردار صاحب! ایسے آدمیوں کے ساتھ رشتہ ہوتو پھر کیا بات ہے۔سنو! عبدالحی کی ماں اسی بزرگ یہی بیٹی ہے۔خدا تعالیٰ میری خواہشیں تو یوں پوری کرتا ہے۔اب میں غیر کا محتاج بنوں تو یہ عدل نہیں“۔۵۶ ولادت صاحبزادہ مرز اظفر احمد صاحب، ۱۵ / جولائی ۱۹۱۳ء مؤرخہ ۱۵ ؍ جولائی ۱۹۱۳ء کی صبح کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے دوسرا فرزند عطا فرمایا۔نومولودحضرت سیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کا پوتا اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کا نواسہ ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مصروفیات ان ایام میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مصروفیات سی تھیں: آپ رسالہ ” تشحید الاذہان کے ایڈیٹر تھے۔-F آپ 'الفضل' کے ایڈیٹر تھے۔آپ مدرسہ احمدیہ کے انچارج آفیسر تھے۔اور بعض کلاسوں کو پڑھاتے بھی تھے۔حضرت منشی احمد جان صاحب آف لودهیوانه