حیاتِ نور

by Other Authors

Page 632 of 831

حیاتِ نور — Page 632

۶۲۷ انصار اللہ بن جاؤ۔۵۴ یہ وہ دعا ہے جو اس مقدس انسان نے کی۔جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اسی طرح تخت خلافت پر متمکن فرمایا۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ابو بکر کو اس نے پہلا خلیفہ مقررفرمایا تھا۔پھر یہ دعا اس شخص نے کی۔جس کا یہ دعویٰ تھا کہ میری دعائیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں۔میرا موٹی میرے کام میری دعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے۔۵۵ ضرورت و اہمیت دعا ، ۲۷ / جون ۱۹۱۳ء فرمایا: حضور نے ۲۷ جون کو جمعہ کے دوسرے خطبہ میں دعا کی ضرورت واہمیت پر زور دیتے ہوئے دعا کے سوا مجھے کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔اس واسطے میری عرض ہے کہ تم دعاؤں میں لگے رہو۔تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں۔ورنہ میں تو تمہارے سلاموں اور تمہارے مجلس میں تعظیم کے لئے اٹھنے کی خواہش نہیں رکھتا۔اور نہ یہ خواہش ہے کہ مجھے کچھ دو۔اگر میں تم سے اسبات کا امیدوار ہوں۔تو میرے جیسا کافر کوئی نہیں۔اس بڑھاپے تک جس نے دیا اور امید سے زیادہ دیا۔وہ کیا چند روز کے لئے مجھے تمہار احتاج کرے گا۔سنو! بچے کی شادی تھی۔میری بیوی نے کہا۔کچھ جمع ہے تو خیر ورنہ نام نہ لو۔میں نے کہا۔خدا کے گھر میں سبھی کچھ ہے۔آخر بہت جھگڑے کے بعد اس نے کہا۔اچھا پھر میں سامان بناتی ہوں۔میں نے کہا۔میں تمہیں بھی خدا نہیں بناتا۔میرے مولا کی قدرت دیکھو کہ شام تک جس قدر ساز و سامان کی ضرورت تھی۔مہیا ہو گیا۔یہ میں نے کیوں سنایا۔تا تمہیں حرص پیدا ہو۔اور تم بھی اپنے مولا پر بھروسہ کرو۔پھر میری بیوی نے کہا۔عبدالئی کا مکان الگ بنانا ہے۔تو اس کے لئے بھی خدا نے ہی سامان کر دیا۔ان فضلوں کے لئے عدل کا اقتضاء ہے کہ میں سارا خدا کا ہی ہو جاؤں۔قولی بھی اس کے عزت و آبرو بھی اسی کی۔” میری پہلی شادی جہاں ہوئی وہ مفتی ہمارے شہر کے بڑے معزز و مکرم تھے۔ایک دن میری بیوی کو کسی نے کہا۔” چہارہ دی اٹ دینی وچ جا لگی ، مگر کہنے " ہیں یعنی جو اینٹ چو بارہ میں گنی چاہئے تھی وہ گندی نالی میں لگادی گئی ہے۔