حیاتِ نور

by Other Authors

Page 631 of 831

حیاتِ نور — Page 631

ـور ۶۲۶ اشام کے وقت آپنے درس دیا۔اور اس کے بعد درد بھرے دل سے فرمایا: ” بیماری کے وقت مجھے ایسا خیال رہتا ہے کہ شاید میں اب زندہ نہ رہوں۔چنانچہ اب کے بھی ایسا ہی ہوا۔میں نے دورکعت نماز ادا کی۔پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورۃ ضحی اور دوسری میں الم نشرح پڑھی۔اور پھر میں نے اللہ کی حمد کی۔اور اس کے بعد استغفار کیا۔پھر میں نے ایک دعا کی۔اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہو گئی۔اس دعا میں میں تم کو بھی شریک کرتا ہوں۔وہ دعا یہ ہے: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْكَرِيمُ - لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ - اسْتَلْكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْعَيْمَةٌ مِنْ كُلِّ بِرَ وَ السَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمِ لَاتَدَعْ إِلَى ذَنْبَا الْأَغَفَرْتُهُ وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَةً وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا الَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ الہی ہم پر ہر طرف سے زور ہو رہا ہے۔الہی ! اسلام پر بڑا تیر چل رہا ہے مسلمان اول توست، دوسرے دین سے بے خبر، قرآن شریف سے بے خبر۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح سے بے خبر۔اس لئے دشمن کھانے لگ گیا ہے۔انہی تو ایسا آدمی پیدا کر جس میں قوتِ جاذ بہ ہو۔ست نہ ہو۔بلند ہمت رکھتا ہو۔پھر استقلال کمال رکھتا ہو۔دعائیں بڑی کرنے والا ہو۔تیری تمام رضاؤں کو اس نے پورا کیا ہو۔یا اکٹر کو۔قرآن شریف اور صحیح حدیث سے باخبر ہو۔پھر اس کو جماعت بخش۔اس جماعت کے لوگوں میں بھی قوت جاز بہ ہو۔بلند ہمت ہو۔استقلال ہو۔وہ بھی قرآن شریف اور حدیث سے واقف ہو۔اور اس کے پابند ہوں۔اے اللہ ! تیری درگاہ میں ابتلا مقدر ہیں تو ان کو ثبات و استقلال عطا کر۔وہ ما لا طاقة لنا کے ماتحت ہوں۔پھر ان کو اس طرح ترقی دے۔جس طرح میں نے تیری درگاہ میں دعا کی ہے۔پھر فرمایا۔" مجھے یہ ہوا آ رہی ہے کہ اللہ پوری کرے گا۔تم بھی اسی طرح دعا کرو اور تم بھی