حیاتِ نور — Page 628
۶۲۳ صل اجازت مانگی اور نام پوچھا۔آپ نے اخبار کی اجازت دی۔اور نام "الفضل“ رکھا۔چنانچہ اس مبارک انسان کا رکھا ہوا نام’الفضل، فضل ہی ثابت پیغام سچ کا اجراء ، ۱۰ جولائی ۱۹۱۳ء منکرین خلافت نے جب اپنے مخصوص نظریات کی اشاعت کی شدت سے ضرورت محسوس کی تو انہوں نے بھی لاہور سے ایک اخبار ”پیغام صلح نکالنا شروع کیا۔چنانچہ اس اخبار کا پہلا پرچہ ار جولائی ۱۹۱۳ء کو نکلا۔یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جب حج بیت اللہ سے تشریف لائے۔تو کچھ خانہ کعبہ اور اس سفر میں جماعت کی ترقی اور اس کے فتوں سے بچنے کی دعاؤں کی وجہ سے اور کچھ اس خیال سے کہ جماعت کے احباب کثرت کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد کا اخبار الہلال“ پڑھتے ہیں اور خطرہ ہے کہ کہیں اس اخبار کے زہریلے اثرات سے متاثر نہ ہوں۔اپنا الگ اخبار جاری کرنے کے لئے کوشش شروع کر دی۔مگر ابھی با قاعدہ طور پر حکومت سے اجازت حاصل نہیں کی تھی کہ آپ کو لاہور سے اخبار ”پیغام صلح کے نکلنے کی تجویز سے اطلاع ہوئی۔اس پر آپ نے حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں لکھا کہ چونکہ لاہور سے جماعت کے احباب ایک اخبار نکال رہے ہیں۔اس لئے حضور اگر اجازت دیں تو میں اخبار نہ نکالوں۔مگر حضور نے جو کچھ جواباً فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ اس اخبار اور اس اخبار کی اغراض میں نمایاں فرق ہے۔آپ اس سے متعلق اپنی کوشش جاری رکھیں۔چنانچہ حضور کے ارشاد کے ماتحت الفضل جاری ہوا اور پھر جس خدشہ کا حضرت خلیفہ المسیح اول نے اظہار فرمایا تھا وہ صحیح ثابت ہوا۔چنانچہ ابھی ان اخبارات کی اشاعت کو تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ گورنمنٹ کو رفاہِ عامہ کی غرض سے کانپور کی ایک مسجد کا غسلخانہ گرانے کی ضرورت پیش آئی۔اس پر ملک میں وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا۔کہ الامان والحفیظ! بلوے میں بعض افراد کی جانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ملک کے اکثر اخبارات میں گورنمنٹ کے خلاف خطرناک پراپیگنڈا کیا گیا۔پیغام صلح بھی اس رو میں بہہ گیا۔اور لطف یہ کہ کارکنان پیغام صلح نے ایک خاص آدمی قادیان بھیج کر حضرت خلیفہ اسی اول کی رائے دریافت کی۔اور پھر آپ کی رائے کو اس طرح بگاڑ کر شائع کیا گیا کہ مطلب کچھ کا کچھ بن گیا۔مقصد یہ تھا کہ حضرت خلیفہ اسیج اول بھی ناراض نہ ہوں اور شوریدہ سر اخبارات کی پالیسی سے بھی سرمو انحراف نہ کیا جائے۔یہ مضامین مولوی محمد