حیاتِ نور

by Other Authors

Page 615 of 831

حیاتِ نور — Page 615

ـور ۶۱۰ تبلیغ اسلام کے لئے میدان وسیع ہے اور وہ وہاں سے ایک ماہوار میگزین نکالنا چاہتے ہیں۔جس کا چندہ انہوں نے پانچ روپے سالانہ مقرر کیا اور یہ ارادہ ظاہر کیا کہ اگر دو ہزار احباب خریدار بنا قبول کر لیں۔تو وہ ایک ہزار پر چہ امریکہ، افریقہ اور یورپ میں مفت تقسیم کیا کریں گے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کو خواجہ صاحب کی یہ تجویز پسند آئی اور حضور نے بذریعہ اخبار جماعت میں تحریک فرمائی کہ احباب تین ہزار کی تعداد میں اس رسالہ کے خریدار بنیں اور رسالہ خواہ خود حاصل کر لیں اور خواہ اپنی طرف سے غیر مسلموں میں تقسیم کرنے کی خواجہ صاحب کو اجازت دیدیں“۔خواجہ صاحب نے اس رسالہ کا نام "مسلم انڈیا و اسلامک ریویو رکھا اور دوستوں کی امداد پر بھروسہ کر کے اسے جاری کر دیا۔چنانچہ یہ رسالہ چل نکلا۔خواجہ صاحب کو یورپ میں اشاعت اسلام کے لئے کس نے بھیجا جناب خواجہ صاحب جب یورپ میں گئے تو جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے گئے تو ایک احمدی رئیس ہو کے مقدمہ کی پیروی کے لئے تھے۔لیکن ایک احمدی ہونے کی حیثیت میں جو فرض ان کے ذمہ تھا اسے بھی وہ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے موقعہ ملنے پر اشاعت اسلام کا کام بھی کرتے تھے۔چنانچہ آپ ایک چٹھی میں جناب ایڈیٹر صاحب بدر کو لکھتے ہیں: مکرمی - السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ میں نے ہندوستان سے رخصت ہوتے ہوئے پیسہ اخبار و زمیندار کے ذریعہ اپنی غرض سفر شائع کر دی تھی۔اشاعت اسلام کے متعلق نہ میں نے کسی سے وعدہ کیا اور نہ کوئی امید دلائی میں یہاں نہ کسی انجمن کی طرف سے مقرر ہو کر آیا ہوں اور نہ کسی مفروضہ تاجر بمبئی کی جیب نے متکفل ہو کر مجھے اشاعت اسلام کے لئے یہاں بھیجا۔۔۔اسلام کا درخت ذاتی قربانیوں سے سینچا گیا ہے اور اب بھی اس کی ضرورت ہے۔۲۸ اس تحریر سے ظاہر ہے کہ جناب خواجہ صاحب کو کسی فرد یا جماعت نے اشاعت اسلام کے لئے یورپ نہیں بھیجا تھا۔مگر چونکہ ایک احمدی رئیس کے مقدمہ کی خاطر کافی عرصہ آپ کو وہاں ٹھہر نا تھا۔اس ی ایریا میں اور آبادی کے خوب سیدرضوی صاحب تھے تیل کے لئے رکھیں حیات قدی حصہ چہارم خوردہ مصفہ حضرت مولانا غلام رسول را جیلی