حیاتِ نور — Page 43
ـور سال سوم لے، اخاہ! آپ نے تو ابتداء کر دی۔یہ کہا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا۔ایک بھی جس کو وہاں چوٹ کہتے تھے۔اس میں اپنے ساتھ سوار کر کے شہر سے باہر بہت دور لے گئے۔باہر جا کر فرمایا کہ آپ نے تو کل ہم کو بھی بھوکا رکھا۔آپ نے فرمایا، آپ کی محفل میں شاہ الحق صاحب کی بُرائی ہوتی ہے اور میں تو شاہ صاحب کا عاشق ہوں۔منشی صاحب نے کہا، آپ نے شاہ الحق صاحب کو دیکھا ہے؟ فرمایا نہیں۔کہا، میں نے تو شاہ صاحب سے قرآن مجید پڑھا ہے، میں شیعہ تھا اور سخت شیعہ تھا۔مگر ہمارا گھر دہلی میں ایسی جگہ تھا کہ شاہ صاحب کے سامنے سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔آخر میں شاہ صاحب کے درس میں شریک ہوا۔اور انہیں کی صحبت کا نتیجہ ہے کہ میں موجودہ حالت کو پہنچا۔پھر اپنا سارا قصہ تشیع کا اور ستی ہونے کا سُنایا۔اور کہا کہ میں شاہ صاحب کا بہت معتقد ہوں۔لیکن وہ ایک سرکاری معاملہ تھا جس میں اس وقت مجھ کو بولنا مناسب نہ تھا۔اور یہ لوگ ایسے ہی ہیں۔ان کی باتوں کی طرف زیادہ التفات نہیں چاہئے یہ کہ کر بھی کولوٹایا اور آپ کو اپنے مکان پر لے گئے۔کھانا کھایا اور پھر کہا کہ آپ ایسی باتوں کا زیادہ خیال نہ کیا کریں۔آپ فرماتے ہیں: میں نے ان کی قرآن شریف کی آیتوں سے محبت اور وقاف للقرآن ہونا اس طرح دیکھا کہ مجھ کو یاد نہیں کہ کسی اور کو ایسا دیکھا ہو۔منشی صاحب کی آپ سے محبت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہاں سے تم چلے نہ جاؤ تو ایک بات کہتا ہوں۔آپ نے کہا فرمائیے۔فرمایا: ئیں تم پر عاشق ہوں“۔منشی صاحب کی شرافت ایک مرتبہ آپ حضرت منشی صاحب کے ساتھ ان کے باغ میں جا رہے تھے۔راستہ میں انہوں نے پوچھا کہ حتی اذا ما جاؤها شهد عليهم میں جس طرح ما سے پہلے اذا آیا ہے۔عربی کے کسی شعر میں اس کی مثال موجود ہے؟ آپ فرماتے ہیں: بچپن کی حالت بھی کیا ہی بُری ہوتی ہے۔میں اور ان کا نواسہ محمد نام بگھی میں ایک سیٹ پر بیٹھے تھے اور مقابل کی سیٹ پر منشی صاحب تھے۔میرے منہ سے بیساختہ نکل گیا