حیاتِ نور — Page 596
۵۹۱ میں احباب انجمن اشاعت اسلام یعنی لاہور فریق کا اصل اختلاف مسائل کا نہیں تھا۔بلکہ حصول اقتدار کا تھا۔لاہوری فریق کے احباب چاہتے تھے کہ اقتدار ان کے پاس رہے اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی تھیں۔پہلی یہ کہ ان میں سے کسی ایک کو خلافت کا منصب مل جاتا۔اس صورت میں تو جو مسائل کی آڑ لے کر انہوں نے فتنہ کھڑا کیا تھا۔اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔دوسری صورت یہ تھی کہ خلافت کو یا تو سرے سے ہی اڑا دیا جائے اور صدر انجمن ہی خلافت کے فرائض انجام دے یا اگر بالفرض خلیفہ رہے بھی تو نماز ہی پڑھایا کرے اور بیعت لے لیا کرے وبس۔ظاہر ہے کہ یہ ساری صورتیں خطر ناک اور سلسلہ کے نظام کو درہم برہم کرنے والی تھیں۔خلافت کا منصب تو جسے اللہ تعالیٰ نے چاہا دیدیا۔تمام جماعت نے بالا تفاق حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم نورالدین صاحب کو خلیفہ المسح تسلیم کر لیا۔اب رہ گئی انجمن ، انجمن کے حسب ذیل ممبر تھے۔> A - - -9 −1+ -11 -14 -1 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت مولانا شیر علی صاحب حضرت ڈاکٹر سید محمد اسماعیل صاحب حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی جناب مولا نا محمد علی صاحب جناب مولا نا سید محمد احسن صاحب امروہی جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری جناب خواجہ کمال الدین صاحب جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب حضرت میر حامد شاہ صاحب جناب شیخ رحمت اللہ صاحب ان ممبروں میں سے آخری آٹھ ممبران کی پارٹی کے تھے۔اور مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے رو