حیاتِ نور

by Other Authors

Page 591 of 831

حیاتِ نور — Page 591

۵۸۶ والسلام کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی۔جو ۱۹۰۳ء سے لے کر ۱۹۱۲ ء تک جاری رہی۔اس سلسلہ میں ان کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی خط و کتابت جاری رہی۔چنانچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں حضرت اقدس نے ان کے سوالات کا مفصل جواب دیا ہے۔حضور نے انہیں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ قادیان تشریف لے آئیں تو ہم آپ کے آمد ورفت کا خرج خود برداشت کریں گے۔مگر مولانا حضور کی زندگی میں تشریف نہ لا سکے۔19ء کے آخر میں علاقہ براہمن بڑیہ کی پبلک نے ایک اشتہار کے ذریعہ تمام علماء کو برہمن بڑیہ کی عید گاہ میں ایک مقررہ تاریخ پر جمع ہو کر اس بات کا فیصلہ کرنے کی دعوت دی کہ جس مدعی کی صداقت معلوم کرنے کے لئے مولوی سید عبد الواحد صاحب تحقیقات کر رہے ہیں۔آیا وہ سچا ہے یا نہیں؟ اس موقعہ پر سینکڑوں روپیہ کے صرف سے غیر احمدیوں نے کلکتہ سے مولوی عبدالوہاب صاحب مرو بہاری اور دوسرے بڑے بڑے مولویوں کو بلایا۔مگر جلسہ میں مقررہ امور پر گفتگو کرنے کی انہیں جرات نہ ہوئی۔اس کے بعد حضرت مولانا کا شوق اور ترقی کر گیا۔آخر 191 ء میں علاقہ براہمن بڑیہ کے تمام باشندوں نے آپ کو تین افراد کے ہمراہ ٹھوس تحقیقات کر کے کسی صحیح فیصلہ پر پہنچنے کے لئے قادیان روانہ کیا۔مولانا موصوف راستہ میں لکھنو، بریلی، شاہجہانپور، ٹونک اور دہلی کے علماء مثلا مولانا شبلی نعمانی مولوی عبداللہ صاحب، مولوی احمد رضا خاں بریلوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ اختلافی مسائل کے بارہ میں تبادلہ خیالات کرتے ہوئے قادیان پہنچے۔اور دو ہفتہ قیام کر کے بالآخریکم نومبر ۱۹۱۲ ء کو بعد نماز جمعہ اپنے تمام ساتھیوں سمیت حضرت خلیفہ اسیج اول کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں شامل ہو گئے۔الحمد للہ علی ذالک آپ کی مشہور و معروف روحانی شخصیت کا علاقہ برہمن بڑیہ کے لوگوں پر خاص اثر ہوا اور وہاں کے سینکڑوں باشندوں نے بہت جلد بیعت کر لی۔آپ نے اپنے اس سفر کے دلچسپ حالات اپنی خود نوشت آپ بیتی رسالہ جذبہ حق میں تحریر کئے ہیں۔آپ بیتی مذکور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔آپ ۱۹ ء میں بمقام برہمن بڑیہ فوت ہوئے۔آپ کی قبر اس جامع مسجد کے صحن کے ایک کونے میں تیار کروائی گئی۔جس کے آپ امام اور خطیب تھے۔1941ء کے آخر میں جب محترم مولانا قمر الدین فاضل اور خاکسار نے نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا تو ہم