حیاتِ نور

by Other Authors

Page 575 of 831

حیاتِ نور — Page 575

۵۷۰ سکے گی اور احمدیت کا پرچم انشاء اللہ تمام دنیا پرکامیابی اور کامرانی کے ساتھ لہراتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ تعالٰی غرض یہ تقریر جو آپ نے احمد یہ بلڈنکس لاہور کی مسجد میں خلافت اور تکفیر کے مسائل پر فرمائی ایسی فیصلہ کن اور طمانیت بخش تھی کہ اس نے مومنوں کے لئے خلج قلب کا سامان پیدا کر دیا اور منکرین خلافت کی امیدوں پر ایک مرتبہ پھر پانی پھر گیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس جنگ میں آپ کے مقابل پر کھڑے ہو کر ہم نہیں جیت سکتے۔لہذا کچھ عرصہ کے لئے یہ لوگ پھر مدہم پڑ گئے۔مگر یہ تحریک مٹی نہیں۔بلکہ اب اس نے پس پردہ رہ کر کام کرنا شروع کیا اور جب یہ مواد پختہ ہو گیا تو انہوں نے پھر ر نکالا۔جس کا مفصل ذکر آگے آئے گا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا جموں تشریف لے جانا حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں جموں کی جماعت نے درخواست کی تھی کہ ہم مسجد احمدیہ کا سنگ بنیاد رکھوانا چاہتے ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ یا تو حضور خود تشریف لاویں اور یا اپنے کسی نمائندے کو بھیج دیں۔اس پر حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو اس کام کی سرانجام دہی کے لئے مقرر فرمایا۔آپ کے ساتھ حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ بھی بھجوائے گئے۔۱۳۶ قبولیت دعا کا نشان جولائی ۱۹۱۰ ء کا واقعہ ہے۔جناب بابو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لا ہور دفتر اکاؤنٹنٹ جنرل ریاست پٹیالہ میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ایک خاص کام کے لئے آپ کو لاہور میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش ہوئی۔اس تبدیلی کا تصور کر کے کئی وجوہات کی بناء پر آپ کو سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی اور اسی گھبراہٹ میں آپ نے حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھا۔اس کا جو جواب حضور نے دیا۔وہ درج ذیل ہے: قادیان ۱۲؍ جولائی ۱۹۱۰ء السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ آپ بہت استغفار کریں۔اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب انسان کسی دروازہ پر بھروسہ کر بیٹھتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ وہ دروازہ بند کر دیتا ہے۔