حیاتِ نور — Page 571
۵۶۶ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے۔اس میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالائکھیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں۔جیسے رافضی ہیں۔جو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔غرض کفر و ایمان کے اصول تم کو بتادیئے گئے ہیں۔حضرت صاحب خدا کے مرسل ہیں۔اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے۔تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے۔جس میں آنے والے کا نام نبی رکھا ہے۔پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب ان کے ماننے اور نہ ماننے کا مسئلہ صاف ہے۔عربی بولی میں کفر انکار ہی کو کہتے ہیں ایک شخص اسلام کو مانتا ہے۔اس حصہ میں اس کو اپنا قریبی سمجھ لو۔جس طرح پر یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو۔اسی طرح پر یہ مرزا صاحب کا انکار کر کے ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب کے بعد میرا انکار ایسا ہی ہے۔جیسے رافضی صحابہ کا کرتے ہیں۔ایسا صاف مسئلہ ہے مگر نکے لوگ اس میں بھی جھگڑتے رہتے ہیں نکے لوگ ہیں (بقیہ حاشیہ) ایک غیر احمدی مولوی نے ہماری دعوت کی۔غلام محمد امرتسری بھی ہمارے ساتھ تھے۔وہ میزبان خود تو پنکھا جھلنے کھڑا ہو گیا اور دوسرے مولوی کو پہلے ہی ہم سے بحث کرنے کو لا کر ہمارے پاس بٹھا دیا۔بہت سی باتیں نرمی و محبت کی کرتا رہا کہ ہم تو صینی کو ماید امانتے ہیں اور مرزا صاحب کو بڑا راستہ از جانتے ہیں اور بھی سب باتوں کو مانتے ہی ہیں۔گویا آپ کے مرید ہی ہیں۔مولوی صاحب ذرا یہ چھوٹا سا مسئلہ بتا ہیے کہ جو شخص مرزا صاحب کو نہ مانے اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا ایک طرف موسیٰ علیہ السلام میں دوسری طرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔پھر ایک طرف موسوی مسیح ہیں اور دوسرے طرف محمدی مسیح۔موسیٰ علیہ السلام کے منکر کو کیا سمجھنا چاہئے آپ جانتے ہیں ہیں۔پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر کو کیسا سمجھنا چاہئے۔یہ بھی آپ کو معلوم ہے۔اس طرح موسوی صبح کے منظر کو بھی جو کچھ بھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں محمدی مسیح سے مکر کو کیا بجھیں۔یہ آپ خود جویز فرماسکتے ہیں۔یہ سن کر س اپنے لڑکے سے کہنے لگا۔لا جلدی سے کھانا۔ان سے بحث کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔(احکم جلد ۱۳- ۱۹۰۹ء) ۱۳۴ بھاری کا لفظ سجو کتابت سے غلط درج ہو گیا ہے۔کیونکہ وہ حدیث جس میں آنے والے مسیح کے متعلق نبی اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے بخاری میں نہیں بلکہ مسلم میں آتی ہے۔اور یہ بات حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے خود بھی ایک دوسرے مقام پر یان فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔تمام مجدووں میں سے نبی اللہ صرف آپ ہی کے لئے احادیث میں آیا ہے۔دیکھو مسلم غرض آپ کی شان بہت اعلیٰ ہے اور آپ پر ایمان لانے کے سوا نجات نہیں"۔احکم جلد ۶ (۱۹۱۳ نمبر ۳۸ صلح ۲) (مؤلف)