حیاتِ نور — Page 566
۵۶۱ اس کتبے سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اسی اول کے زمانہ میں غیر مبائعین بھی حضور کو خلیفہ المسیح ہی تسلیم کرتے تھے محض بزرگ سمجھ کر حضور کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔قیام لاہور کے دوران دعوتیں فرمایا۔قیام لاہور کے دوران محترم جناب ملک غلام محمد صاحب قصوری نے حضور کو دعوت طعام دی۔کل علی الصباح جوار ( مکئی) کی چھوٹی سی روٹی اور چائے آپ پلا دیں۔جناب ملک صاحب نے اس کی تعمیل کی۔ایسا ہی حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب کی درخواست پر حضور نے شام کے وقت ان کے ہاں چائے پی۔۱۳۳ درس قرآن کا ایک خاص واقعہ محترم جناب ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی کا بیان ہے کہ قریشی عبدالمجید صاحب گجراتی فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفتہ المسیح اول لاہور میں تشریف لائے۔میرے والد صاحب اور میاں محمد خاں صاحب آپ کے درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ایک دن دونوں نے انارکلی میں جاتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں حضرت مولوی صاحب درس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کیوں نہیں کرتے۔دوسرے دن جبکہ حضور درس دے رہے تھے۔میاں محمد خاں صاحب پہلے آئے اور قریشی صاحب کے والد صاحب بعد میں۔حضرت خلیفہ المسیح اول نے فرمایا کہ بھیرہ میں نورالدین کے کچھ مکانات تھے اور کچھ زمین۔اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ اب وہ مکانات کس کے پاس ہیں؟ موجود بھی ہیں یا گر گئے ہیں اور زمین کے متعلق بھی علم نہیں کہ کس کے استعمال میں ہے؟ کیا اس کے بعد بھی یہ کہنا بجا ہے کہ میں مرزا صاحب کا ذکر نہیں کرتا۔میرا تو سب کچھ ہی مرزا صاحب کا ہے“۔قریشی صاحب خیال کرتے تھے کہ میاں محمد خان صاحب پہلے آئے تھے۔انہوں نے ہماری با ہمی گفتگو کا ذکر کر دیا ہو گا۔مگر دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایسا کوئی ذکر نہیں ہوا۔