حیاتِ نور

by Other Authors

Page 567 of 831

حیاتِ نور — Page 567

سور ۵۶۲ احمد یہ بلڈنگ میں خلافت کے موضوع پر حضرت خلیفہ اول کی معرکتہ الآرا تقریر، ۱۶-۷ ارجون ۱۹۱۲ء اب ہم اس معرکتہ الآرا تقریر کے بعض اہم حصے درج کرتے ہیں جو حضرت خلیفہ المسیح اول نے ۱۶ ۷ ارجون ۱۹۱۲ء کو احمد یہ بلڈنگ میں خلافت کے موضوع پر فرمائی اور جس میں منکرین خلافت کے ایک ایک اعتراض کا مکمل اور مدلل جواب دیا گیا ہے۔فرمایا: تم کو بھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک کیا پھر اس کے مرنے کے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔اس نعمت کی قدر کرو اور لکھی بحثوں میں نہ پڑو۔میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی کسی نے کہا کہ خلافت کے متعلق بڑا اختلاف ہے۔حق کسی کا تھا اور دنی گئی کسی کو۔میں نے کہا کہ کسی رافضی کو جا کر کہہ دو کہ علی کا حق تھا۔ابو بکر نے لے لیا۔میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی یا روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنا دیا۔اور تمہاری گردنیں اس کے سامنے جھکا دیں۔خدا تعالٰی کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر اعتراض کرو تو سخت حماقت ہے۔میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنا یا کس نے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ۔اس خلافت آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا۔کہ حضور وہ مفسد فی الارض اور مفسکہ۔الدم ہوگا۔مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا ؟ تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے۔اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو۔تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے اور اگر وہ الی اور استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یا در کھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری