حیاتِ نور — Page 532
۵۲۷ ہوں۔پھر وہ کونسی بات ہو سکتی تھی کہ میں پیر بننے کی خواہش کرتا۔اب خدا تعالیٰ نے جو چاہا کیا اس میں نہ تمہارا کچھ بس چلتا ہے نہ کسی اور کا۔اس لئے تم ادب سیکھو۔کیونکہ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے۔تم اس حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو۔یہ بھی خدا ہی کی رسن ہے۔جس نے تمہارے متفرق اجزا کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا دوستم خوب یا درکھو کہ معزول کرنا تمہارے اختیار میں نہیں۔تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو۔مگر ادب کو ہاتھ سے نہ دو۔خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے چار خلیلیے بنائے ہیں۔آدم کو۔داؤد کو اور ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے۔جو لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الأَرضِ میں موعود ہے۔اور تم سب کو بھی خلیفہ بنایا۔پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے۔اور اپنے مصالح سے بنایا۔ہاں تمہاری بھلائی کے لئے بنایا ہے۔خدا تعالی کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔اگر خدا تعالٰی نے مجھے معزول کرنا ہوگا۔تو وہ مجھے موت دے دیگا۔(اللهم ابد الاسلام و المسلمين ببقائه و طول حیاتہ - ایڈیٹر ) تم اس معاملہ کو خدا کے حوالے کر دو تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔میں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا۔مجھے یہ لفظ ہی دکھ دیتا ہے۔جو کسی نے کہا کہ پارٹی منٹوں کا زمانہ ہے۔دستوری حکومت ہے۔ایران اور پرتگال میں بھی دستوری ہو گئی ہے۔ترکی میں پارلیمنٹ مل گیا۔میں کہتا ہوں وہ بھی تو بہ کرلے۔جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ ایران کو پارلیمنٹ نے کیا سکھ دیا۔اور دوسروں کو کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ترکوں کو پارلیمنٹ کے بعد کیا نیند آئی ہے؟ ایرانیوں نے کیا فائدہ اٹھایا۔محمد علی شاہ کے سامنے کتنوں کو غارت کرایا۔اور اب پچھلوں کو الٹی میٹم آتے ہیں۔۔۔۔۔