حیاتِ نور — Page 35
میں سنکر خاموش رہا۔میں نے شاہ صاحب سے عرض کیا کہ شیعہ سنی کا جھگڑا کس طرح طے ہو۔انہوں نے فرمایا کہ تم یہ بتاؤ کہ ہمارے اور شیعوں کے درمیان کوئی چیز بھی مابعد الاشتراک ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں قرآن شریف کو شیعہ بھی مانتے ہیں اور سنی بھی۔انہوں نے فرمایا کہ بس تو اب آسان طریقہ یہ ہے کہ قرآن شریف جو مذہب تعلیم فرمائے اس کو قبول کر لو۔میں نے کہا میں تو عربی نہیں جانتا۔کہا کہ ہمارے بھائی شاہ رفیع الدین نے قرآن شریف کا ترجمہ لکھا ہے۔تم اس ترجمہ کو پڑھو اور جو لفظ ترجمہ کا مجھ میں نہ آئے بس اسی لفظ کے اوپر کا اصل عربی لفظ لے کر کسی سنی یا شیعہ مولوی سے اس لفظ کے معنی دریافت کر لو۔لیکن صرف اسی لفظ کے معنی۔آگے پیچھے کی عبارت دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔اسی طرح تمام ترجمہ خوب سمجھ کر پڑھ لو۔چنانچہ میں نے وہ ترجمہ پڑھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں سنی ہو گیا۔میں جب واپس ہو کر لکھنو گیا تو بادشاہ نے مجھ سے دریافت کیا۔میں نے قرآن شریف والی بات کا ذکر تو کیا نہیں۔بادشاہ سے عرض کیا کہ کیا بتاؤں۔وہ چاند پور کہتے رہے اور میں لکھنو کہتا رہا۔بادشاہ نے کہا کس طرح اتفاق ہوا، مفصل بیان کرو۔جب میں نے مفصل بیان کیا تو بادشاہ نے فورا حکم دیا کہ تمام پرانے کاغذات اور نو شتے بہم پہنچا کر اس بات کی تحقیق کرو کہ لکھنو کی آبادی سے پیشتر اس تمام قطعہ زمین میں جہاں اب لکھنو آباد ہے کون کون سے گاؤں آباد تھے۔چنانچہ بہت دنوں میں یہ بات تحقیق ہو کر بادشاہ کی خدمت میں تحقیق کا نتیجہ پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جہاں پکائل ہے وہاں پیشتر چاند پور نام ایک آبادی تھی۔بادشاہ نے بڑا تعجب کیا کہ افسوس ہم کو اپنے شہر کا جغرافیہ معلوم نہیں اور شاہ عبد العزیز و تی میں بیٹھے ہوئے ہمارے شہر کے جغرافیہ سے اس قدر واقف !!۔اے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فر ما یا کرتے تھے: دو نظم سے تو نہیں مگر میں کسی مصنف کی نثر کا ایک ورق پڑھ کر اس کے حالات معلوم کر جاتا ہوں کہ اس کا مذہب کیا ہے۔بیوی ، بچوں ، دوستوں، دشمنوں سے اس کے تعلقات کیا ہیں۔ایک مصنف سے میں نے کہا۔تم سنی ہو۔اس نے کہا آج تک نہ شیعہ نے مجھے سنی سمجھا اور نہ سنیوں نے ، آپ کو کیسے علم ہوا۔میں نے