حیاتِ نور

by Other Authors

Page 494 of 831

حیاتِ نور — Page 494

۴۹۰ آگے آگئی ہے۔میں نے اس وقت تک دوباتیں بتائی ہیں۔اول تنازعہ نہ کرو۔پھر اگر ایسا ہو جاوے۔تو صبر کرو۔تیسری بات یہ بتائی کہ اگر ترقی رک گئی ہے۔تو صدقہ و خیرات کرو۔استغفار کرو۔دعاؤں سے کام لو۔تا کہ تمہارا فیضان رک نہ جاوے۔اگر کوئی روک آ گئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے۔میں تم کو صدقہ کا حکم دیتا ہوں۔اس لئے کہ الـصـدقـة تـطـفـي غـضـب الرب ، صدقہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔۔۔۔چوتھی بات جو میں سمجھاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ مال کے معاملہ کے متعلق بڑی بدگمانی ہوتی ہے۔یہاں کے کارکن امین ہیں۔نیک ہیں۔اگر کسی کی نسبت پیسہ کا جرم لگ جاتا ہے تو وہ چور نہیں ہوتے۔اس لئے تم اپنے مالوں کے لئے مطمئن رہو۔جو مجھے کوئی دیتا ہے اس کے لئے بھی میں امین ہوں۔میں جب چھوٹا تھا۔تو ایک امیر کبیر ہمارا دوست تھا۔اس نے ایک لوئی خریدی۔وہ اتنا بڑا مالدار تھا کہ پچاس ساٹھ ہزار روپیہ اس کے پاس زکوۃ ہی کا تھا۔میرا دل چاہا کہ لوئی مول لوں۔میں نے خرید تو کی مگر مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے کبھی پہنی ہو۔۔۔۔اب تک مجھے اللہ تعالی پشمینہ ہی پہنے کو دیتا ہے۔پس میں اپنی نسبت ( تم کو ) مطمئن کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال کا حریص نہیں بنایا۔میرے دل میں مال کی خواہش ہی نہیں ہے۔بڑا بنے کی خواہش بھی نہیں ہے۔میں اپنی بیوی کو محمد و د خرچ مہینہ میں دیتا ہوں۔۔۔۔۔اور یہ بھی یا درکھو کہ میں (اب) مرنے کے قریب ہوں۔مگر میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔تمہارے لئے دعائیں کرتا ہوں۔میں نے اپنی اولاد کے لئے روپیہ نہیں رکھا۔میرے باپ نے مجھے کوئی روپیہ نہیں دیا۔اور نہ بھائی نے دیا۔مگر میرے مولیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا۔اور وہی دیتا ہے۔پس تم بدگمانی سے تو بہ کرلو۔یہ باتیں میں نے بہت سوچ سوچ کر کہی ہیں۔میرے دماغ میں خشکی ہو تو ہو۔مگر ان باتوں میں خشکی نہیں۔آپس میں محبت رکھو۔تنازعہ نہ کرو۔بدگمانی نہ