حیاتِ نور — Page 490
ات : ۴۸۶ تعلق ہے۔کیا اس کی نامرادی کے واسطے وہ معاملہ کافی نہ تھا۔جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ۲۱ ساون کو۔کی پیشگوئی کر کے اپنا کا ذب ہونا ثابت کر لیا تھا۔کاش کہ عبد الحکیم اب بھی سمجھے۔اور لاحول پڑھ کر شیطان کو کہے کہ دور ہواے خبیث روح! مجھے لوگوں کے سامنے بار بار شرمندہ اور ذلیل نہ کر ۱۸ حربه دعا ، ۲۷ / دسمبر ۱۹۱۰ء ۲۷ دسمبر ۱۹۱۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح اول نے حربہ دعا کے موضوع پر ایک لطیف تقریر فرمائی تھی۔گو کتاب کے حجم کی زیادتی کے خوف سے میں حضور کی تقریریں درج نہیں کر رہا۔مگر جب میں نے یہ تقریر پڑھی۔تو میں نے چاہا کہ اگر اسے کتاب میں شامل کر لیا جائے۔تو قارئین کرام پر یہ ایک احسان ہوگا۔جس کے نتیجہ میں ممکن ہے۔کوئی سعید روح میرے لئے بھی دعا کرے۔اور میری عاقبت محمود ہو جائے۔آپ نے کلمہ تشہد اور تعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا: ادعونی استجب لکم یہ ایک ہتھیار ہے۔اور بڑا کارگر ہے۔لیکن کبھی اس کا چلانے والا آدمی کمزور ہوتا ہے۔اس لئے اس ہتھیار سے منکر ہو جاتا ہے۔وہ ہتھیار دعا کا ہے جس کو تمام دنیا نے چھوڑ دیا ہے۔مسلمانوں میں ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس کو تیز کریں اور اس سے کام لیں۔جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے۔دعائیں مانگیں، اور نہ تھکیں۔میں ایسا بیمار ہوں کہ و ہم بھی نہیں ہوسکتا کہ میری زندگی کتنی ہے۔اس لئے میری یہ آخری وصیت ہے کہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ دعا کا ہتھیار تیز کرو۔تمہاری جمیعت میں تفرقہ نہ ہو۔کیونکہ جب کسی جماعت میں تفرقہ ہوتا ہے تو اس پر عذاب آجاتا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا: فلمانسوا ما ذكروابه۔اغريناً بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة اب تک تم اس دکھ سے بچے ہوئے ہو۔خدا تعالیٰ کے فضل اور نعمت کے بغیر دعا یہ آیات کو کتابت سے غلط درج ہوگئی ہے۔اور فلما نسوا ماذکر وابہ کے ساتھ سورہ کا نکہ رکوع ۳ کی آیت الطوينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة لمادی گئی ہے حالانکہ اصل آیت جس کی طرف حضور نے اشارہ فرمایا وہ سورۃ اعراف کی ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے فلما نسواما ذكروا به انجينا الذين ينهون عن السوء واخلنا الذين ظلموا بعذاب بشيس بما كانوا يفسفون - (اعراف رکوع ۱۲ آیت (۱)