حیاتِ نور — Page 489
۴۸۵ کسی وقت ہوا اور بعد نیم شب بیداری رہی۔منگل کے دن درد عصا بہ بالکل نہ تھا۔اور بخار بھی نہیں تھا۔لیکن دو دانت جو چند روز ہوئے نکالے گئے تھے۔اس کے سبب سے رخسار مبارک پر کچھ سوجن ہو گئی تھی۔جواب تک تھی۔اور اس پر ڈاکٹر صاحبان ایسی دوائیاں لگاتے رہے جن سے کہ وہ اندر ہی اندر بیٹھ جائے۔مگر اب بعض اطبا کی رائے ہوئی کہ اس کے اندر کچھ مادہ ہے۔جس کے اخراج کی تدبیر ضروری ہے۔بدھ کی صبح کو جبکہ اخبار کی آخری کاپی پریس میں جاتی ہے۔یہ کیفیت ہے کہ ڈاکٹر صاحبان نے تشخیص کی ہے کہ سوجن کے اندر پیپ نہیں۔اور نہ چیر دینے کی ضرورت۔یہ در دکان کے نیچے کی گھٹی میں ہے۔جونکور وغیرہ سے انشاء اللہ اچھا ہو جائے گا۔درد بہت رہا۔اب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہ تکلیف بھی رفع ہو جائے گی۔شاید یہی دوسرا سانپ ہے جسے حضرت صاحب نے اپنی رویاء میں دیکھا تھا۔اور انشاء اللہ بموجب بشارت قتل کیا جاوے گا۔اس ہفتہ زیادہ تر معالجہ کی خدمت ڈاکٹر الہی بخش صاحب کے سپر دہی رہی۔حلا شیطان پھر چھو ٹا ہوا متعلق ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کی پیشگوئی درج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم نے سنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کے کان میں شیطان نے یہ پھونکا ہے کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ امسیح گیارہ جنوری تک فوت ہو جائیں گے۔اس مضمون کا ایک خط پہلے بھی آیا تھا۔مگر اب ہم نے عبد الحکیم کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا خط اپنے ایک معزز مکرم سردار کے پاس دیکھا ہے جس میں ڈاکٹر مرتد کے اصل الفاظ اور اس کے دستخط کا منکس درج ذیل کیا جاتا ہے۔" مولوی نورالدین صاحب !ار جنوری 1911 ء تک فوت ہو جائیں گے۔خاکسار عبد الحکیم ۱۱ نومبر ۱۹۱۰ء گیارہ جنوری اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے بخیر و عافیت گزر گئی۔اور حسن اتفاق سے اخبار بھی آج بارہ کو روانہ ہوتا ہے۔جس خبیث روح کے ساتھ ڈاکٹر مرتد کا