حیاتِ نور

by Other Authors

Page 477 of 831

حیاتِ نور — Page 477

ایک دوست نے سرخ رنگ کی ایک گھوڑی حضرت خلیفہ اول " " کو تحفہ کے طور پر دی تھی۔آپ اس پر سوار ہو کر اس گلی میں سے آ رہے تھے۔جو مہرالدین آتشباز کے مکان کے قریب ہے گھوڑی بہت بد کنے والی تھی۔چنانچہ وہ بدک گئی۔اور حضرت خلیفہ اول کا پاؤں رکاب میں اٹک گیا۔اور حضور ایک طرف کو لٹک گئے۔میں نے دیکھا اور فورا بھاگ کر لگام پکڑ لی۔میں جوان تھا۔میں نے گھوڑی کو چھوڑا نہیں۔وہ مجھے دھکیل کر آٹھ دس قدم تک لے گئی۔اتنے میں آپ کا پاؤں رکاب سے نکل گیا۔اور آپ ایک کھنگر پر گرے۔جس کی وجہ سے آپ کی کنپٹی پر چوٹ آئی۔جو بعد میں ناسور بن گئی۔اور یہ ناسور آپ کی وفات تک باقی رہا۔حضور گرنے سے بیہوش ہو گئے۔میں نے آپ کو اٹھایا۔اور چونکہ یہ واقعہ میرے مکان کے سامنے پیش آیا تھا۔اس لئے اپنی اہلیہ کو آواز دی۔وہ چار پائی اور کپڑے لے آئیں۔اور آپ چار پائی پر لیٹ گئے۔حضور کے سر میں پانی ڈالا۔مگر خون بند نہ ہوا۔میں نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا۔جو نصف کے قریب خون آلود ہو گئی۔تھوڑی دیر کے بعد ہوش آئی۔تو فرمایا۔خدا کے مامور کی بات پوری ہوگئی۔اور میرے دریافت کرنے پر کہ کونسی؟ فرمایا کہ آپ نے اخبار میں نہیں پڑھا کہ حضور نے میرے گھوڑے سے گرنے کی خواب دیکھی تھی۔” میری اہلیہ نے عرض کیا۔حضور دودھ لاؤں۔فرمایا نہیں میں دودھ کا عادی نہیں اس سے مجھے اسہال کی شکایت ہو جاتی ہے۔پھر حضور کو چار پائی پر ہی اٹھا کر آپ کے مکان پر حکیم غلام محمد صاحب امرتسری آپ کے شاگرد اور غلام بھی الدین صاحب جو بچوں کے خادم تھے وغیر ہما اٹھا کر لے گئے۔نہیں بھی ساتھ تھا لیکن چار پائی اٹھانے کا مجھے موقعہ نہیں ملا۔تیسرے روز حکیم غلام محمد صاحب موصوف آئے اور کہا کہ حضرت خلیفہ اول خون آلود پگڑی منگواتے ہیں۔میں ان کے ساتھ حاضر ہوا۔تو فرمایا۔وہ پگڑی ہمیں دیدو۔میرے توقف پر حضور میرا مطلب سمجھ گئے۔اور فرمایا۔اچھا اسے دھلا لو۔اور استعمال کرو لیکن نمکڑے ٹکڑے کر کے لوگوں میں تقسیم نہ کرنا۔محترم شیخ رحمت اللہ صاحب کو غلطی گی ہے۔گھوڑی میاں عبدالمی صاحب کو ہدیہ پیش کی گئی تھی۔ور