حیاتِ نور

by Other Authors

Page 470 of 831

حیاتِ نور — Page 470

افادہ عام کے لیئے انہیں درج کیا جاتا ہے: سوال جماعت میں اگر دو آدمیوں کی باہم عداوت ہو۔تو جماعت کو یا جماعت کے مسلم سرگروہ کو کیا کرنا چاہئے۔سوال اگر جماعت یا جماعت کا کوئی مسلم سرگروہ دونوں کو صلح کرنے کا حکم دے اور ایک شخص صلح سے باوجود بار بار کہنے کے انکار کرے تو جماعت کو یا اس مسلم سرگروہ کو اس شخص کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔سوال کیا اس زمانہ میں جماعت کے باہمی اندرونی سیاست کے واسطے بھی کوئی قانون قاعدہ ہے یانہیں؟ یا یہ کہ مہر جو چاہے کرے اور جماعت اس سے محبت اور برادری کا تعلق برابر قائم رکھے۔جوابات میں اگر قرآن شریف کی آیت یا حدیث کا حوالہ ہو تو بہتر ہوگا۔جوابات ان کو نصیحت کریں۔الدین نصح اور نہ تھکیں۔اور پھر دعا کریں۔يَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا - ے بعد نصیحت اور دعا کے پھر اس کے لیئے بالا دست لوگوں کو اطلاع دی جائے اور اگر پھر نہ مانے تو اس کو جماعت سے الگ یقین کریں۔آیت وَ عَلَى الثلاثَةِ الَّذِينَ خُلَفُوا کافی ہے۔سے قواعد کا نفاذ حکومت پر موقوف ہے یا رعب پر۔فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْفِي حَتَّى نِفَى ءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ - ال کیا ہم پھر وچھو والی جاسکتے ہیں؟ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ۲-۳-۲ دسمبر ۱۹۰۷ ء کو وچھو والی لاہور کی آریہ سماج نے جماعت احمدیہ کے معزز ممبروں اور دیگر مسلمانوں کو بلا کر باوجود اس اقرار کے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف بدزبانی سے پر ہیز کریں گے پھر بھی بدزبانی کی انتہا کر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو حضور نے احمدیوں پر سخت اظہار ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ ایسی مجلس میں ور