حیاتِ نور

by Other Authors

Page 471 of 831

حیاتِ نور — Page 471

بیٹھے کیوں رہے۔اور آپ لوگوں کی غیرت نے کس طرح برداشت کیا کہ ایک مجلس جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہرا گلا جائے آپ اسے خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں وغیرہ وغیرہ اس واقعہ کے تین سال بعد پھر آریہ سماج وچھو والی کے پرنسپل صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں حضور سے استدعا کی کہ ہم ایک جلسہ کر رہے ہیں جس میں ہم چاہتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب بھی ایک لیکچر دیں۔حضور نے اس خط کے جواب میں تحریر فرمایا: د مکرم معظم پر سیل صاحب بالقابه و آدابه خاکسار پورے طور پر بحمد الله مذہب اسلام سے آگاہ اور اسلام کے اصول بآواز بلند پانچ وقت سنائے جاتے ہیں۔لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ قرآن کریم کا حکم ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ مت گالی دو ان کو جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا۔اس حکم کے مطابق ہم کسی کے معبود کو برا کہنے کے مجاز نہیں۔پھر صرف دنیا میں ہماری جماعت جس نے ”پیغام صلح لا ہور میں یا۔مگر میرے معزز اور شریف انسان ! ہمیں وچھو والی کا ہال ایک بار پور اسبق دے چکا ہے۔میں خود لیکچر میں تھا جس میں مہمانوں کا ذر الحاظ نہ ہوا۔۔و پھر اس وقت ہماری جماعت ایک شخص کے ماتحت ہے اور مہران آریہ سماج آزادی میں پوری ڈگری لے چکے ہیں۔وہ جماعت کسی خاص مقتدا کے ماتحت نہیں۔خاکسار نور الدین ۲۹ اکتوبر ۱۹۱۰ء " مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے متعلق سوال اور اس کا جواب ایک شخص نے مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کے مسلک کے متعلق چند سوالات کئے جن کے جوابات میں آپ نے تحریر فرمایا: چکڑالہ کے مولوی سے تو ملنے کا موقعہ نہیں ملا۔کہ اس سے دریافت کروں۔مگر میں نے اس کے مقرب لوگوں سے پوچھا ہے کہ تم لوگ کلمہ پورا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو اس لئے اکٹھا نہیں پڑھتے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ موجود نہیں۔یہ نماز کہاں کہاں سے اکٹھی کر کے جوڑی ہے۔پھر ان میں تین رسالے نکلے