حیاتِ نور — Page 456
۴۵۲ سور و پسیہ پوشیدہ طور پر محض ابتغاء لمرضات اللہ اس راہ میں دے چکے ہیں۔اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے۔مسجد نور کا افتتاح ۲۳۰ / اپریل ۱۹۱۰ء مسجد نور جس کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔جب اس کا ایک کمرہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ۲۳ را پر میل ۱۹۱۰ء کو بطور افتتاح اس میں عصر کی نماز پڑھائی اور وہیں قرآن مجید کا درس دیا۔تعلیمی وفد کی علیگڑھ کو روانگی ، ۲۸ / اپریل ۱۹۱۰ء ۲۸ اپریل ۱۹۱۰ ء کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت مولوی شیر علی صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول اور جناب مولوی صدر الدین صاحب جو موجودہ ہیڈ ماسٹر تھے۔چند تعلیمی امر کے تصفیہ کے لئے آل انڈیا محمدن ایجو کیشنل کانفرنس میں شمولیت کے لئے تشریف لے گئے۔صاحبزادگان کی لاہور کو روانگی ، آخر اپریل ۱۹۱۰ء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب چند یوم کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا پروگرام جن ایام کے حالات بیان کئے جارہے ہیں۔ان ایام میں مرکز سلسلہ میں نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کا کیا پروگرام تھا؟ اس کے متعلق ۱۲ مئی ۱۹۱۰ء کے پرچہ بدر میں مدینتہ السیح “ کے عنوان کے نیچے لکھا ہے: حضرت مولانا ( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح۔ناقل ) آجکل تین درس دیتے ہیں۔بعد از نماز صبح مسجد میں پہلے صاحبزادہ شریف احمد صاحب کو، پھر چند گریجوایٹ ہیں۔مثلا شیخ تیمور صاحب ایم۔اے۔ان کو قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے۔یہ درس خصہ نیست سے لطیف ہوتا ہے۔بخاری کا درس بھی شروع ہے۔مبارک وہ جو اس موقعہ سے فائدہ حاصل کرے۔انجمن تشحیذ خوب ترقی کر رہی ہے۔لائبریری کا انتظام اعلیٰ پایہ پر زیرغور ہے۔ـور