حیاتِ نور

by Other Authors

Page 452 of 831

حیاتِ نور — Page 452

۴۴۸ ـور کی دو پہر بخیر و خوبی ختم ہوا۔جلسہ میں شامل ہونے والے دوست تین ہزار سے زائد تھے۔توسیع شدہ مسجد اقصی صحن سمیت نماز جمعہ کے وقت ساری کی ساری بھرگئی تھی بلکہ لوگوں کو کوٹھوں پر اور گلی کوچوں میں بھی کپڑے بچھا کرنماز پڑھنا پڑی۔خطبہ جمعہ کے بعد جو حضرت خلیفہ مسیح نے پڑھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنا مضمون سنایا۔جس میں پیشہ ور اصحاب کو اس امر کی تلقین کی گئی تھی کہ وہ اپنی کمزوریوں کو رفع کر کے سچائی اور دیانت کو اختیار کریں۔آپ کی تقریر کے بعد طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے۔پھر بورڈنگ ہاؤس کے ایک کمرہ میں سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی صدارت میں احمدیہ کا نفرنس کا اجلاس منعقد ہوا۔جس میں مختلف جماعتوں کے صدر اور سیکر یٹری صاحبان بھی شامل ہوئے۔اس کا نفرنس میں ایک تو سالانہ بجٹ پاس ہوا۔دوسرے بیرونی مشنوں کا ایک فنڈ کھولا گیا۔نیز تعمیر فنڈ کی طرف بعض احباب کو توجہ دلائی گئی۔تقر ر واعظین اور محصلین کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا اور مناسب فیصلے کئے گئے۔دوسرے روز ۲۶ / مارچ کو حضرت میر حامد شاہ ) صاحب نے اپنی نظم پڑھی۔پھر جناب مولوی محمد علی صاحب سیکریٹری صدرانجمن احمدیہ نے جلسہ سالانہ کی رپورٹ سنائی۔آپ کے بعد محترم خواجہ کمال الدین صاحب نے قومی ضروریات کے لئے چندہ کی اپیل کی۔جس پر احباب نے دل کھول کر چندہ دیا۔نماز ظہر کے بعد حضرت خلیفہ المسیح ہے تقریر فرمائی۔جس میں علم لدنی کے فوائد پر حقائق و معارف کا ایک دریا بہا دیا۔" تیسرے دن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تازہ نظم سنائی گئی۔پھر آ۔نے چند آیات قرآنیہ کی ایسے لطیف پیرایہ میں تشریح فرمائی کہ حاضرین عش عش کر اٹھے۔تقریر کے آخر میں آپ نے انجمن تشخیز الاذہان کا مختصر الفاظ میں ذکر کیا۔آپ کی تقریر کے بعد حافظ عبدالرحیم صاحب نے بحیثیت سیکریٹری انجمن تشخیز سالانہ رپورٹ سنائی۔بیعت اس جلسہ میں ایک کثیر جماعت حضرت خلیفة المسح والہدی کے ہاتھ پر بیعت کر کے داخل سلسلہ ہوئی۔گو یہ بیعت متفرق اوقات میں ہوئی۔لیکن بیعت کرنے والوں کا سب سے زیادہ ہجوم مسجد اقصیٰ میں تھا۔چونکہ سب کے ہاتھ حضور تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔اس لئے آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر اپنا ہاتھ پھیلایا اور سب کو کہا کہ بیعت کرنے والے اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں۔اور اپنے ہاتھ آگے کر دیں اور الفاظ بیعت دوہراتے جائیں۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل کی گئی اور اس طرح سب کی بیعت ہو گئی۔