حیاتِ نور — Page 449
۴۴۵ سے اوجھل ہو گئے۔مجبوراً میں نے امانت کے طور پر انہیں رکھ لیا۔اور الحمد للہ کہ آپ نے مجھے آج اس بوجھ سے سبکدوش کیا۔میں ایسے واقعات کی کوئی طویل فہرست نہیں دینا چاہتا اور نہ یہ ممکن ہے۔یہ احمدی قوم کی زندگی کا عملی پہلو ہے۔ایک بائیو گرافر اپنے ایک ہی ہیرو کی عملی زندگی کے ہزار ہا واقعات میں سے صرف چند واقعات لے سکتا ہے تو میں ایک قوم کے حق میں کہا تک یہ انصاف کر سکتا ہوں“۔فائز از ہمبراں لودھیانہ سے پیدائش صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، ۶ ارنومبر ۱۹۰۹ء ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔جس کا نام ناصر احمد رکھا گیا۔خلافت اولی میں سلسلہ کے اخبارات ورسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں الحکم اور بدر دو اخبارات اردو میں اور رسالہ ریویو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نکلا کرتا تھا۔علاوہ ازیں سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مساعی جمیلہ سے نوجوانوں نے ایک رسالہ تشخیذ الا ذہان نکالا تھا۔اور یہ سارے اخبارات اور رسائل کامیابی کے ساتھ چل رہے تھے۔اب حضرت میر قاسم علی صاحب نے دہلی سے اخبار الحق نکالنا چاہا۔مگر ساتھ یہ شرط رکھی کہ اگر پانچ سوخریداروں کی درخواستیں آگئیں تو اخبار جاری کر دیا جائے گا۔چنانچہ ۱۳ ار جنوری 1910ء کے بدر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پر چہ جاری ہو گیا۔مندرجہ بالا اخبارات اور رسائل چونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں تبلیغ کے لئے نکلا کرتے تھے اور اس ملک میں اکثریت ہندوؤں کی تھی اور سکھ بھی کافی تعداد میں تھے۔ان میں تبلیغ کے لئے ہماری طرف سے کوئی اخبار یا رسالہ نہیں نکلتا تھا۔سوالحمد للہ کہ جماعت کے نوجوان محترم شیخ محمد یوسف صاحب نومسلم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور قادیان سے ان قوموں میں تبلیغ کرنے کے لئے اکتوبر ۱۹۰۹ء سے اخبار نور نکالنا شروع کیا۔یہ دونوں پر چے بھی خدا کے فضل سے خوب کام کرتے رہے۔۱۹۱۳ء میں ایک اور پرچہ " الفضل نام نکلا۔جس کا ذکر انشاء اللہ آگے تفصیل سے آئے گا۔