حیاتِ نور

by Other Authors

Page 448 of 831

حیاتِ نور — Page 448

م م م میں ہیں۔میرے عزیز بھائی نے انہیں تین روپے دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے بچے کا تخمینہ حساب ٹھیک نہ ہو آپ اپنا بقایا بتلا دیں یہ سن کر وہ نوجوان ہنسا۔اور کہنے لگا بیشک بچے کا تخمینہ غلط ہے کیونکہ مجھے صرف ۱۳ آنے چاہئیں اور یہی رقم اس نے بڑے اصرار سے لے لی اور ہمیں ایک نہایت قیمتی سبق دے کر علیحدہ ہوا۔اس رات کو عزیز ولی محمد خاں معہ عزیز محمد صدیق احمدی دکانداروں سے کچھ دودھ اور روٹی لینے بازار گیا۔اتفاق سے اس کے پاس بھنے ہوئے پیسے ریزگاری نہ تھے۔مطلوبہ اشیاء کے ساتھ وہ روپیہ بھی واپس لائے اور ظاہر کیا کہ اتفاق سے دکانداروں کے پاس بھی اس وقت پیسے نہ تھے اور انہوں نے با وجود اصرار یہ کہ کر رو پیر واپس کر دیا کہ ہماری نسبت آپ بہتر یا درکھیں گے اور صبح ہم کو آسانی سے پہنچاسکیں گے۔یہی دودھ والے نے کہا اور یہی روٹی والے نے۔یہ جلسہ سالانہ کا موقعہ تھا۔مخلوق کے اس اثر دحام میں بھی اپنے بیگانے کی تفریق کا خیال ان کی حق بین نظر و دلوں میں جگہ نہیں پاسکا۔صبح کو ہم سو کر اٹھے تو فیروز پور کے ایک بھائی نے کہا کہ یہ واسکٹ کی جیبیں بھی کچھ نہیں ہوتیں جو کچھ ان میں ہو بس غائب یہ کہہ کر وہ کچھ سوچنے لگ گیا اور پھر دفعتنا باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر کے بعد (اب مجھے یاد نہیں کہ چوٹی تھی کہ اٹھنی تھی) ہاتھ میں لئے ہوئے ہنستا ہوا اندر داخل ہوا۔اور کہنے لگا۔کل میری جیب میں ایک پیسہ تھا اور یہ ایک چونی یا اٹھنی۔میں نے کل وہاں سے ایک پیسہ کے ریوڑ ( ریوڑیاں ) لئے تھے۔مجھے خیال آیا۔شاید پیسہ کی بجائے میں اٹھنی دے بیٹھا ہوں اب جو اس بھائی کے پاس گیا اور اسے کہا کہ جیب سے پیسہ بھی غائب ہے اور اٹھنی بھی۔اور کل فلاں وقت میں نے آپ سے پیسے کے ریوڑ لئے تھے۔ممکن ہے مجھ سے غلطی ہو گئی ہو اور میں نے یہاں اٹھنی دی ہو اور پیسہ کہیں دیسے ہی گر گیا ہو۔اس پر اس پاکیزہ بستی کے پاک نفس دکاندار نے یہ رقم اٹھا کر مجھے دیتے ہوئے اس معروف اور پیارے احمدی لہجہ میں جو خلق عظیم سے ظلی طور پر ان کے حصہ میں آیا ہے کہا۔پیارے بھائی! میرے بلاتے بلاتے اور پیسے گنتے گنتے آپ میری آنکھوں ـور