حیاتِ نور — Page 442
۴۳۸ سنتے ہیں۔تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جس وجود کو آنکھیں ڈھونڈ رہی تھیں وہ یہی ہے۔اس وقت دیکھنے والے کا تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے اور اسے دربار خلافت کا نقشہ نظر آ جاتا ہے۔”ہمارا خلیفہ اور موجودہ امام نہایت سادہ مزاج اور نہایت ہی بے تکلف امام ہے۔وہ ادنیٰ سے اعلیٰ کے ساتھ ایسے طور پر کلام کرتا ہے کہ ہر شخص یقین کرتا ہے کہ جو محبت اور بے تکلفی اس کے ساتھ ہے شاید کسی اور کے ساتھ نہ ہو مگر یہ غلطی ہے وہ سب کے ساتھ وہی ہمدردی اور محبت رکھتا ہے۔اس کی اندرونی اور بیرونی نشست میں سادگی ہی سادگی ہے۔اس کے کھانے میں، اس کے پہنے میں بھی سادگی ہے۔غرض اس کو عام لوگوں میں سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اس کا پر شوکت اور نورانی چہرہ اور اس کی عام ہمدردی اور خدمت دین ہے جس میں تمام وقت مصروف رہتا ہے۔ـور مسجد احمد یہ بھیرہ حضرت حاجی الحرمین سید ناحکیم نورالدین صاحب خلیفہ مسیح الاول" کاجو مکان بھیر میں تھا جب اسے آپ نے مسجد بنانے کے لئے ہبہ کر دیا تو بعض پڑوسی شر کا ء نے اسے شرارت سے تعبیر کیا۔اس کا جو جواب آپ نے ایک مولوی صاحب کو دیا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے: حضرت مولوی صاحب ! یہ خاکسار ہمیشہ بدل شرارت سے بہت متنفر ہے کہ شرارت کا خیال دل میں نہیں لاتا۔میرا باپ اور دادا بھی شرارت کو برا جانتے تھے۔یہ میرا علم ہے جس کو عرض کیا ہے۔اللہ تعالیٰ رحیم ، کریم اصل حال سے واقف ہے اور کون جانے آپ کو میری صحبت، میرے بھائیوں کی صحبت نہیں رہی۔وہ لوگ شرارت پسند نہ تھے۔میری ماں ، میری دادی، میری بہنیں، بس جہاں تک مجھے علم ہے۔سب شرارت سے متنفر تھے۔والحمد للہ میں بدل لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں۔نماز پڑھتا ہوں۔روزہ رکھتا ہوں۔زکوۃ دیتا ہوں۔حج دو بار کیا ہے۔ہزاروں کو قرآن شریف سنایا اور قرآن کریم کی طرف بلایا۔الحمد للہ رب العالمین۔اس وقت میرے لاکھوں مرید ہیں۔سب قریشی، مغل، پٹھان، شیخ کسی کو شرارت کی تعلیم نہیں کرتا۔ہماری جماعت نسبتا شر سے بچتی ہے۔اپنا نقصان کر لیتے ہیں مگر شر سے پر ہیز رکھتے ہیں۔ہاں سب ایک جیسے نہیں مگر نسبتا پابند صلوۃ ، زکوۃ وصوم وغیرہ ہیں۔میرے ساتھ جب بھیرہ