حیاتِ نور

by Other Authors

Page 441 of 831

حیاتِ نور — Page 441

ـور ۴۳۷ -+ ایک زنانہ ہسپتال جس کا نام ام المومنین وارڈ" تجویز کیا گیا اور اس کے خرچ کا اندازہ بھی کم و بیش پانچ ہزار روپیہ لگایا گیا۔دور الضعفا یعنی غریبوں کی چند جھونپڑیاں جو غریب مہاجرین کے آرام کے لئے بنائی جائیں گی۔یہ چار کام تھے۔جن پر نہیں ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ تھا۔اس چندہ کی رقم کو فراہم کرنے کے لئے حضرت میر ناصر نواب صاحب کو ملک کے طول و عرض میں دورہ کرنا پڑا۔اور جس کوشش، تندہی اور مستعدی سے میر صاحب موصوف نے یہ چندہ جمع کیا اور مذکورۃ الصدر عمارات کو مکمل کیا یہ آپ ہی کا حصہ تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ام المومنین وارڈ کوئی الگ عمارت نہیں بنائی گئی بلکہ نور ہسپتال کے ایک حصہ میں ہی عورتوں کے علاج کی بھی سہولتیں فراہم کی گئیں۔حضرت میر صاحب کے چندہ فراہم کرنے کے واقعات کا اندازہ کسی قدر حیات ناصر" سے لگ سکتا ہے اور یا پھر شیخ عبداللطیف صاحب بٹالوی کی اس روایت سے لگ سکتا ہے جو پیچھے درج ہو چکی ہے۔در بار خلافت کا ایک منظر، جولائی ۱۹۰۹ء ء کے واقعات کے تسلسل میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دربار خلافت کا ایک منظر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے قلم سے احباب کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔اس منظر کے مطالعہ سے حضور کے اخلاق عالیہ اور شمائل واوصاف پر نہایت دلچسپ روشنی پڑتی ہے۔محترم عرفانی کبیر لکھتے ہیں: قادیان میں باہر سے جب کوئی شخص آتا ہے اور حضرت خلیفتہ المسیح کو اس کی آنکھیں تلاش کرتی ہیں تو وہ اس کے دربار میں پہنچ کر سخت حیران ہوتا ہے۔جب دیکھتا ہے کہ معمولی چٹائیوں کے فرش پر بہت سے لوگ بیٹھے ہیں وہ سیب کے سب نہایت بے تکلفی اور سادگی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ان میں بظاہر کسی قسم کا امتیاز مسند و پائیں کا نظر نہیں آتا۔وہ اتنا تو دیکھتا ہے کہ ایک وجیہہ، پر ہیبت اور پر نور بوڑھا ان میں موجود ہے مگر اس کا لباس نشست و برخاست ، اس کا اپنے خدام سے انداز گفتگو ایسا نہیں جس سے وہ سمجھ سکے کہ یہ نورانی وجود مسند خلافت پر بیٹھا ہوا ہے۔وہ نہایت سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ مریضوں کے ہجوم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ہر قسم کے میلے پھیلے اور بد بودار کپڑے پہنے ہوئے مریضوں کی تشخیص کرتا اور انہیں علاج بتاتا ہے۔انہی میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو کئی قسم کے مذہبی سوال کرتے ہیں، اور ان کا جواب بھی وہ اسی مونہہ سے