حیاتِ نور

by Other Authors

Page 437 of 831

حیاتِ نور — Page 437

ـور آزاد پائی تھی۔کسی کے سامنے جھکتے نہ تھے۔بلحاظ وضع قطع اور انداز گفتگو وہ کچھ نہ تھے جو باطن میں تھے۔صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد خوان، مہمان نواز ، غرباء مریضوں کے ہمدرد، وہ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوتے تھے۔ان کی میڈیکل استادوں اور سر براہ سے نہیں بنتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ مجھے کوئی نہ کوئی نقص نکال کر فیل کر دیا جاتا ہے۔جب دو سال متواتر فیل قرار دیئے گئے۔تو دیدہ و دانستہ حضرت خلیفہ اول کے جذبات کو برانگیخت کرنے کے لئے ان کی محفل میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے واشگاف غیر مومنانہ الفاظ میں کہنے لگے 'خدایا تو ہے ہی نہیں یا ہے تو میڈیکل محسنین کے سامنے اس کی پیش نہیں جاتی۔حضرت مولوی صاحب نے سن لیا اور آنکھیں اوپر اٹھا کر فرمایا: 'ہلا جی!“ ( یعنی اچھا جی ! ) اور پھر اپنے مطب کے کام میں مشغول ہو گئے۔اسی سال محمد عمر صاحب ڈاکٹر بن گئے اور کامیاب قرار پائے۔میرے پاس آئے کہ اب یہ خبر کس طرح پہنچاؤں اور کس منہ سے حاضر خدمت ہوں۔میں نے کہا۔چلو چلتے ہیں۔میں نے بیٹھتے ہی عرض کر دیا کہ محمد عمر پاس ہو گئے۔آپ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: دیکھا میرے قادر خدا کی قدرت نمائی !"۔انعام خلافت کے لئے کونسا عمل ضروری ہے انعامات الہیہ کا ذکر ہورہا تھا۔اس کے ساتھ ایک ملتا جلتا اور واقعہ بھی عرض کئے دیتا ہوں : حضرت مفتی محمد صادق صاحب ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد “ کے عنوان کے ماتحت لکھتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ نجات خدا کے فضل پر موقوف ہے مگر اس کے فضل کے جاذب اعمال صالحہ ہیں۔پس نجات کے لئے ایمان کے ساتھ عمل صالحہ بھی ضروری چیز ہے۔عیسائی اس نکتہ کو نہیں سمجھتے۔اسی سلسلہ میں میں نے ایک سوال دریافت کیا کہ خلافت کے لئے کونسا عمل ہے؟ فرمایا۔خلافت تو نبوت کی نیابت کا نام ہے اور یہ دونوں وہی ہیں۔میں