حیاتِ نور — Page 392
ات تُ ـور ۳۸۹ دعا کی درخواست - خاکسار سید محمد حسین ۲۸ یہ خطوط جو بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔ان لوگوں کے عزائم کی خاص طور پر انعکاسی کر رہے ہیں۔اور بتارہے ہیں کہ جن کو یہ پیر ومرشد کہتے تھے ان کا کس قد رادب واحترام ان کے دلوں میں تھا۔حضرت میر حامد شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کے خطوط میرے پاس آئے تو ”میں نے ان کو خط لکھا اور سمجھایا جو سمجھایا۔شاید میرا وہ خط ان کے پاس ہو گا۔جس کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا اور عذر خواہی کی۔ان کا یہ خط میرے پاس محفوظ ہے باہمی رد و کد ہوتے ہوتے حضرت نورالدین اعظم کی ناراضگی فرو ہوئی اور عید کے دن احباب کے سر سے خدا خدا کر کے یہ بلاٹلی اور ان کی طرف سے معافی نامہ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پیش ہوا۔چنانچہ اس کے متعلق بھی خوشی مناتے ہوئے مبارکبادی کے خطوط احباب کی طرف سے آئے۔19 خطبہ عید الفطر اور اعلان معافی را کتوبر ۱۹۰۹ء خطبہ عید الفطر جس میں آپ نے ان لوگوں کے اخراج از جماعت کا اعلان کرنا تھا اس میں آپ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ کوئی قوم سوائے وحدت کے نہیں بن سکتی بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کوئی انسان سوائے وحدت کے انسان نہیں بن سکتا۔کوئی محلہ سوائے وحدت کے محلہ نہیں بن سکتا۔اور کوئی گاؤں سوائے وحدت کے گاؤں نہیں بن سکتا۔اور کوئی ملک سوائے وحدت کے ملک نہیں بن سکتا۔اور کوئی سلطنت سوائے وحدت کے سلطنت نہیں بن سکتی پھر میں کہتا ہوں کہ جب تک وحدت نہ ہو گی تم کوئی ترقی نہیں کر سکتے۔اس کے بعد آپ نے حضرت آدم، حضرت داؤد علیہا السلام اور دیگر خلفاء جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مثالیں دے کر سمجھایا کہ جن لوگوں نے ان کا مقابلہ کیا تم دیکھ لوان کا کیا حشر ہوا۔پھر فرمایا: اب میں تمہارا خلیفہ ہوں۔اگر کوئی کہے کہ الوصیت میں حضرت صاحب نے نورالدین کا ذکر نہیں کیا تو ہم کہتے ہیں کہ ایسا ہی آدم اور ابو بکر کا ذکر بھی پہلی