حیاتِ نور

by Other Authors

Page 382 of 831

حیاتِ نور — Page 382

اتِ نُور یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھ دینا یا بیعت لے لینا ہے۔یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے۔اس کو تو بہ کرنی چاہیے ورنہ نقصان اٹھا ئیں گے۔دوران تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دکھ دیا ہے اور منصب خلافت کی ہتک کی ہے۔اسی لئے میں اس حصہ مسجد میں کھڑا ہوا ہوں جو سیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔تقریر کا اثر جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے۔سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے سینے کھلتے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں جو لوگ نورالدین رضی اللہ عنہ کو اس منصب سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے لگے اور یا خلافت کے مخالف تھے اور یا اس کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔آپ نے دوران لیکچر میں ان لوگوں پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے اور فرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ان کو اس کام پر ہم نے کب مامور کیا تھا۔آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص سے اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کہا اظہار کسی نے کیا کرنا تھا۔تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کر چکی تھی۔مجھ سے اور نواب محمد علی خاں صاحب سے جو میرے بہنوئی ہیں ، رائے دریافت کی۔ہم نے بتایا ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں۔خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔انہوں نے بھی مصلحت وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا۔پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کر لیں اور اگر تیار ہوں تب بیعت کریں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے۔جس میں خلافت کی تائید کے لئے دستخط لئے گئے تھے کہا کہ اُن سے بھی غلطی ہوئی ہے۔وہ بھی بیعت کریں۔