حیاتِ نور

by Other Authors

Page 380 of 831

حیاتِ نور — Page 380

صاحب (حضرت خلیفہ اول) سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے۔میں نے تو ان کے اس کلام کی وقعت کو سمجھ کر خاموشی ہی مناسب سمجھی مگر وہ خود حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں چلے گئے۔میں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔جاتے ہی ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح اول سے عرض کی کہ مبارک ہو سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔اس بات کو سن کر آپ نے فرمایا۔کونسی انجمن۔جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اس فقرہ کو سن کر شاید پہلی دفعہ خواجہ صاحب کی جماعت کو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ ہم سمجھتے تھے۔ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول جب لوگوں سے ووٹ لیں گے تو لازما انجمن کی جانشینی کے حق میں ووٹوں کی کثرت ہوگی۔لہذا آپ کی اپنی رائے اگر اس کے خلاف بھی ہوئی تو بھی جماعت میں فتنہ کے ڈر سے آپ انجمن کے حق میں فیصلہ دے دیں گے۔لیکن ان کے خیالات کی پرواز آیت استخلاف کے اس حصہ تک نہیں پہنچی تھی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولیمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم کہ اللہ تعالٰی خلفاء کے ذریعہ سے اس دین کو مضبوط اور مستحکم بنا دے گا۔جو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہوگا۔اس لئے انہیں کیا پتہ تھا کہ جس دین پر خلیفہ المسح قائم میں وہی صحیح ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ مضبوط ومستحکم بنائے گا۔لیکن ان لوگوں نے بہر حال ہر امکانی کوشش کی جس کے ذریعہ یہ رائے عامہ کو اپنے حق میں استوار کر سکتے تھے۔ان میں سے بعض لوگوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا ہے ورنہ اگر ان کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہو جاتا۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور قابل یادگار مجمع حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ نصرہ العزیز اس جلسہ کا نظارہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت خلیفہ المسیح اول مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔قریباً اڑھائی سو آدمی کا مجمع تھا۔جس میں اکثر احمد یہ جماعتوں کے قائمقام تھے۔بیشک ایک ناواقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع جو بلا فرش زمین پر بیٹھا تھا ایک معمولی بلکہ شاید حقیر نظارہ ہومگر ان لوگوں کے دل