حیاتِ نور

by Other Authors

Page 375 of 831

حیاتِ نور — Page 375

ساتِ نُـ ـور ۳۷۳ جو جلسہ ہوا۔اس میں بھی صرف دو آدمیوں نے ہی اختلاف کیا۔فرق صرف یہ تھا کہ قادیان میں دو اختلاف کرنے والے انجمن کی تائید میں تھے اور لاہور میں دو اختلاف کرنے والے خلافت کی تائید میں تھے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے مخالفین نے بھی پرو پیگنڈا کر کے اپنے حق میں کافی فضا پیدا کر رکھی تھی۔زیادہ زور وہ اس بات پر دیتے تھے کہ اب زمانہ جمہوریت کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس نے انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا ہے ورنہ اگر حضور کے بعد بھی فرد واحد کی خلافت کا قیام ضروری ہوتا تو حضور صاف طور پر فرما دیتے کہ انبیاء سابقین کی مانند میرے بعد بھی خلافت ہی کا نظام قائم ہوگا۔وغیرہ وغیرہ۔وہ بھول جاتے تھے اس امر کو کہ حضرت اقدس نے الوصیت ہی میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ دو قدرتیں دکھاتا ہے۔اول خود انبیاء کے ذریعہ سے، دوسرے انکی وفات کے بعد خلفاء کے ذریعہ سے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کی مثال دے کر واضح فرمایا۔نیز وہ ان حوالوں کا بھی کبھی ذکر نہیں کرتے تھے۔جن میں وضاحت کے ساتھ حضور نے اپنے بعد خلافت کا ذکر فرمایا ہے۔بس یک طرفہ دلائل دے کر لوگوں کو اس امر کی تلقین کرتے تھے کہ اگر تم اس دفعہ پھسل گئے تو پھر انجمن کبھی بھی برسراقتدار نہیں آئے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود کا مشن ہمیشہ ہمیش کے لئے تباہ ہو جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔نہایت خطر ناک رات ۳۱ ؍ جنوری ۱۹۰۹ ء کا دن اس اختلاف کے فیصلہ کا دن تھا۔جماعتوں کے نمائندے ۳۰ / جنوری تک مرکز میں پہنچ چکے تھے اور ہر طرف اسی امر کا چر چا تھا کہ دیکھئے کل کیا فیصلہ ہوتا ہے۔اس نظارہ کو دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مخلصین تڑپ تڑپ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے تھے اور ۳۰ اور اس جنوری کی درمیانی رات میں تو اس قدر دردمندانہ دعائیں کی گئیں اور اس قدر آہ وزاری سے عرش الہی کو ہلایا گیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا گویا صبح ہوتے ہی حشر کا میدان بر پا ہوگا جس میں تمام قوم کی قسمتوں کا فیصلہ ہوگا۔خدا خدا کر کے فجر کی اذان ہوئی۔بیرونی جماعتوں کے اکثر نمائندے تو پہلے ہی مسجد میں پہنچ گئے تھے۔مقامی لوگوں نے بھی جوق در جوق مسجد میں پہنچنا شروع کر دیا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے مسجد میں آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر خواجہ صاحب کے ہمنواؤں نے پھر انجمن کی جانشینی کا سبق دو ہرا نا شروع کر دیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: میں نماز کے انتظار میں گھر میں ٹہل رہا تھا۔اس وقت میرے کان میں شیخ