حیاتِ نور

by Other Authors

Page 371 of 831

حیاتِ نور — Page 371

ـور۔۳۶۹ کروا کر تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو حضور نے ان لوگوں کی ذرہ پروانہ کی بلکہ سورج غروب ہونے سے دس پندرہ منٹ پہلے تک برابر تقریر فرماتے رہے اور دس پندرہ منٹ بھی اس لئے چھوڑے کہ حضور کی اجازت سے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کچھ بیان فرمانا چاہتے تھے۔چنانچہ جب مولوی صاف موصوف کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ یہ خلیفہ کی بہتک ہے کہ ان کا وقت مقرر کیا گیا اور عام لوگوں کی طرح ان کے لئے وقت کی تعین کی گئی ہے۔" اس پر خواجہ صاحب نے ذرا کھسیانے ہو کر کہا کہ حکیم الامت صاحب کے مشورہ سے پروگرام بنایا گیا تھا۔مگر بات ظاہر ہو گئی اور لوگوں میں چرچا ہونے لگا کہ یہ لوگ خلیفہ کی اس طرح اطاعت نہیں کرتے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کرتے تھے۔بہر حال جلسہ سالانہ ۱۹۹۸ء پر ان لوگوں نے محسوس کر لیا کہ ہماری تقریروں اور دوسرے افعال کی وجہ سے خلافت کے مؤیدین ہوشیار ہورہے ہیں۔اور اگر ہم نے جلد قدم نہ اٹھایا تو خطرہ ہے کہ ہم کہیں اپنے منصوبے میں فیل نہ ہو جائیں۔اس لئے انہوں نے اپنی مساعی کو تیز سے تیز تر کر دیا اور وہ اس طرح کہ ایک پروگرام کے ماتحت خواجہ صاحب نے تو بیرونی جماعتوں میں دورہ کر کے اپنا اثر در سوخ پیدا کر کے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا شروع کر دیا۔اور مولوی صدرالدین صاحب نے قادیان کے مقامی آدمیوں میں اپنے خیالات کی اشاعت شروع کر دی۔قادیان میں تو انہیں اتنی کامیابی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ یہاں لوگوں کے پاس اس زہر کا تریاق موجود تھا۔جب بھی اس قسم کی بحث چلتی۔خلافت کے مؤیدین ایسے لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے مگر باہر کے لوگ خواجہ صاحب کی ان کے صدر انجمن کے ممبر ہونے کی وجہ سے بہت عزت کرتے تھے اس لئے کافی لوگ ان میں سے وساوس کا شکار ہونے لگے۔مگر اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ اس بارہ میں ہم خلیفہ امسیح کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔اس پر ان لوگوں نے سوچا کہ جب تک مرکز کی اکثریت کو ہم اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب نہیں ہو جاتے ، اس وقت تک ہماری کامیابی مشکل ہے۔چنانچہ اس تجویز کے ماتحت انہوں نے شروع سال میں ہی ) اپنے ہم نواؤں کو لے کر مرکز پر دھاوا بول دیا۔جب اس قسم کی بحثوں نے زور پکڑا تو حضرت خلیفہ المسیح کے پاس استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے چند سوالات لکھ کر پیش کئے۔جن میں خلافت اور انجمن کے تعلقات کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔حضرت خلیفۃالمسیح نے وہ سوالات مولوی محمد علی صاحب کو بھیج دیے اور لکھا کہ آپ ان کا جواب دیں۔مولوی صاحب نے جو