حیاتِ نور

by Other Authors

Page 343 of 831

حیاتِ نور — Page 343

ات نور ۳۴۱ نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوئے تھام لیا۔اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا اس حوالہ میں صریحاً فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق " کو کھڑا کر کے جو دوسری قدرت دکھائی گئی۔اس کا آیت استخلاف میں وعدہ تھا۔جیسا کہ فرمایا: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ یعنی امر موعود خلافت ہے اور حضور فرماتے ہیں کہ آیت استخلاف کا موعود قدرت ثانیہ ہے۔اس سے ایک اور ایک دو کی طرح ثابت ہو گیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک قدرت ثانیہ اور خلافت ایک مفہوم کے دو نام ہیں۔سوم آگے چل کر حضور فرماتے ہیں: اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن جب میں جاؤنگا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔یہ حوالہ یقینی دلیل ہے اس امر کی کہ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے کیونکہ خلافت ہی ایسا مفہوم ہے جو حضور کی زندگی میں ظہور پذیر نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ خلافت کے معنی ہیں۔منوب عنہ کی وفات کے بعد اس کا نائب ہونا۔اور وفات اور زندگی ایک وقت میں جمع نہیں ہو سکتے۔چنانچہ واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ حضور کی وفات کے معا بعد جماعت میں خلافت آ گئی۔پس معلوم ہوا کہ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے نہ کہ کچھ اور۔مفصل بیان کی ضرورت اس اس مفصل بیان کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ حضرت خلیفتہ امسح الاول کی بیعت خلافت کے چند دن بعد ہی جماعت کے سرکردہ لوگوں میں سے ایک طبقہ جس کے سر کردہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔ایسا پیدا ہو گیا تھا۔جس نے حضور کے رسالہ الوصیت ہی سے ایک اور فقرہ لے کر یہ سوال اُٹھانا شروع کر دیا کہ حضرت صاحب کی وصیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خلیفہ کوئی فرد واحد ہونا ضروری ہے بلکہ حضرت صاحب نے انجمن کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور یہ ضروری