حیاتِ نور

by Other Authors

Page 330 of 831

حیاتِ نور — Page 330

۳۲۸ ات : سنسور آواز میں آپ سے کہا کہ انت صدیقی۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب کے یہ الفاظ سن کر آپ نے موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے فرمایا کہ مولوی صاحب ! یہاں یہ سوال رہنے دیں۔قادیان چل کر فیصلہ ہوگا۔کوئی اڑھائی بجے تک غسل دینے اور کفنانے سے فراغت ہوئی۔قریباً تین بجے بعد دو پہر حضرت مولوی صاحب کی اقتداء میں ایک کثیر جماعت نے جنازہ پڑھا اور اس کے بعد جوق در جوق احمدی و غیر احمدی احباب حضور کی زیارت کے لئے آتے رہے۔چار بجے کے قریب جنازہ احمدی احباب نے کندھوں پر اٹھایا اور اسٹیشن کی طرف چل دیئے اور پونے چھ بجے کے قریب جو گاڑی لاہور سے روانہ ہوتی تھی اس میں حضور کا جنازہ ، اہلبیت اور تمام خدام بٹالہ کو روانہ ہوئے۔رات دس بجے کے قریب بٹالہ پہنچے۔جنازہ گاڑی میں رہا۔خدام پہرہ پر موجود رہے۔صبح دو بجے بہت سے دوست جنازہ کو شانہ بشانہ اٹھا کر آٹھ بجے کے قریب قادیان پہنچ گئے۔انتخاب خلافت کا سوال اب انتخاب خلافت کا سوال تھا مشیت الہی کے ماتحت تمام اہلبیت ، اکابرین اور عوام کے دل حضرت مولوی صاحب کی طرف مائل تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد قلوب پر انابت الہی کا گہرا اثر تھا نفسانی جذبات دب چکے تھے۔سب پر ایک روحانی کیفیت طاری تھی۔حضرت اقدس کے وصال کی خبر سنتے ہی ہر احمدی اپنے آپ کو بیکس اور یتیم سمجھ کر آستانہ الہی پر جھک گیا۔اور جماعت کی رہنمائی ، نصرت اور تائید غیبی کے لئے اپنے خالق و مالک کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے صورت سوال بن چکا تھا۔اگر چہ تمام دل حضرت مولوی صاحب ہی کو اس منصب جلیلہ کا اہل یقین کرتے تھے مگر جب تک خلیفہ کا انتخاب عمل میں نہ آ گیا۔صحابہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مارے غم کے دیوانہ ہورہے تھے۔اور دعاؤں اور گریہ وزاری میں اس طرح مصروف تھے کہ یقیناً ان کی اس آہ و بکا کو دیکھ کر عرش الہی ہل گیا۔اس روز ہر شخص کا دل واقعی خشیت اللہ سے بھر چکا تھا۔باوجود انتہائی ضبط کے بعض لوگوں کی چیچنیں اس زور سے نکل رہی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس بے صبری اور اضطراب کا اظہار نہ کیا ہوگا۔اور یہی وجہ تھی کہ لوگوں کے قلوب سے نفسانیت نکل چکی تھی اور ہر شخص کی یہی خواہش نظر آتی تھی کہ جماعت جلد از جلد پھر کسی مقدس برگزیدہ اور پاک وجود کے ہاتھ پر جمع ہو کر وحدت اور اتحاد کی سلک میں پروئی جائے۔پرانے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کی وفات کا سب سے زیادہ صدمہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا۔آپ کی زبان سے کئی مرتبہ بے ساختہ یہ الفاظ انکل جاتے تھے کہ