حیاتِ نور

by Other Authors

Page 329 of 831

حیاتِ نور — Page 329

ـور ۳۲۷ پانچواں باب حضرت اقدس کا وصال آپ کا خلافت کے اہم منصب پر فائز ہونا اور فتنہ غیر مبائعین وصال اکبر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے تفصیلی حالات تو حضور کی سیرت و سوانح پر مشتمل کتب میں مذکور ہیں۔اس جگہ موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے ان کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔حضرت اقدس نے ایک اہم مضمون ”پیغام صلح کے عنوان سے لکھنا شروع فر ما دیا تھا اور کسی مخفی اثر کے ماتحت اس مضمون میں حضور اس قدر منہمک تھے کہ ۲۵ مئی کو عصیر کی نماز تک اسے قریباً قریباً ختم ہی کر لیا۔نماز عصر کے بعد حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے مگر جلد واپس لوٹ آئے۔مسلسل دماغی محنت اور تھکان کی وجہ سے طبیعت پہلے ہی کمزور تھی مگر تازہ مضمون لکھنے کی وجہ سے اور بھی کمزور ہو گئی۔نتیجہ حضور کو اسہال اور برداطراف کا ایسا شدید دورہ ہوا کہ طبیعت برداشت نہ کر سکی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب اور جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو طلب فرمایا۔مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دورہ دماغی کام کی وجہ سے ہوا ہے۔ادویہ مذکورہ کے استعمال سے کمزوری دور ہو کر اور نیند آ کر آرام آجائے گا، حضرت مولوی صاحب اور جناب ڈاکٹر صاحب اپنی اپنی جگہ پر چلے گئے۔مگر تقریبا دو اور تین بجے رات کے درمیان ایک اور زبردست اسہال ہوا۔جس کی وجہ سے نبض بالکل بند ہو گئی۔حضرت مولوی صاحب، جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بلوا کر فرمایا کہ مجھے اسہال کا سخت دورہ ہو گیا ہے۔آپ کوئی دوا تجویز کریں۔پھر ساتھ ہی فرمایا کہ حقیقت میں تو دوا آسمان پر ہے۔آپ دوا بھی کریں اور دعا بھی۔علاج شروع کیا گیا۔حالت نازک ہونے کی وجہ سے اطباء پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔مگر نبض واپس نہ آئی اور صبح ۱/۲ ۱۰ بجے خدا کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس روح اپنے ازلی و ابدی محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہوگئی۔فاناللہ وانا پر الیہ راجعون۔حضرت اقدس کے وصال پر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب حضور کی مبارک پیشانی کو بوسہ دے کر کمرہ سے باہر نکلے ہی تھے کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے رقت بھری