حیاتِ نور

by Other Authors

Page 313 of 831

حیاتِ نور — Page 313

دیا جاوے۔مگر وہ کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا اور قادیان سے باہر نہ گیا۔حضرت اقدس کو جب اس امر کی دوبارہ اطلاع ہوئی کہ وہ لڑکا ابھی تک مولوی صاحب کے پاس ہی ہے تو حضور نے حضرت مولانا محمد سرور شاہ صاحب سے فرمایا کہ ابھی جائے اور مولوی صاحب سے کہیئے کہ اس لڑکے کو فوراً قادیان سے نکال دیجئے اور اگر آپ کو اس لڑکے کو قادیان سے بھیج دینا نا گوار ہو تو آپ بھی ساتھ ہی چلے جائیں۔میہ واقعہ بیان کر کے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جب حضرت اقدس کا پیغام حضرت مولوی صاحب کو دیا تو اس وقت وہ لڑکا حضرت مولوی صاحب کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے اسے فرمایا کہ اسی وقت اڈے میں چلے جاؤ کرایہ وغیرہ تمہیں وہاں ہی پہنچادیا جائے گا چنانچہ وہ لڑکا اسی وقت چلا گیا"۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان ہے کہ ” جب اس لڑکے کو اس بات کا علم ہوا کہ حضرت اقدس نے مولوی صاحب کو میرے قادیان سے نکالنے کا حکم دیا ہے تو اس نے یہ موقعہ غنیمت سمجھا اور کہا کہ اگر اتنے روپے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔جتنے روپے وہ مانگتا تھا اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اول کے پاس نہ تھے۔اس لئے آپ کچھ کم دیتے تھے اس جھگڑے میں دیر ہوگئی۔چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی کہ وہ ابھی سیک نہیں گیا اور قادیان میں ہی ہے تو اس پر حضرت صاحب نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں۔یا خود بھی چلے جائیں۔اس واقعہ سے احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ امسح الاول حضرت اقدس کے کیسے جانثار صحابی تھے۔آپنے جب دیکھا کہ حضرت اقدس ناراض ہورہے ہیں تو اس لڑکے کو فورا اڈے پر بھیج دیا اور اسے کہا کہ جس قدر روپے تم مانگتے ہو تمہارے پیچھے اڈے پر پہنچادیے جائیں گے۔ـور