حیاتِ نور — Page 308
ور ۳۰۶ اسے کوئی نہ تھی اور یہ ناممکن ہے کہ اتنے بڑے طبیب کو اس کی اس حرکت کا علم نہ ہو۔آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ وہ محض شربت پینے کے لئے آتا ہے مگر آپ نے اسے کبھی اشار تا بھی نہیں کہا کہ بابا دوا لینے کے لئے کوئی شخص مہینوں بھر بھی آیا کرتا ہے؟ آپ کا یہ طریق تھا کہ آپ دوا کی قیمت نہیں لیا کرتے تھے بلکہ اگر کسی شخص کے لئے غذا کے طور پر دودھ ڈبل روٹی وغیرہ تجویز کرتے اور وہ کہتا کہ میں غریب آدمی ہوں، خرید نہیں سکتا تو آپ اپنی گرہ سے اس کی خوراک کا انتظام فرماتے۔اور اس طرح بعض نادار لوگ کئی کئی دن بیماری کا بہانہ بنا کر دودھ اور ڈبل روٹی کھاتے رہتے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات پر حضور کا حضرت مولوی صاحب سے خطاب ۶ارستمبر ۱۹۰۷ء صاحبزادہ مرزا مبارک احمد جن کے نکاح کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔نکاح کے پورے سولہ دن بعد وفات پا کر اپنے مولی حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔حضرت اقدس جنازہ کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے۔اور قبر کی تیاری کے انتظار میں کچھ فاصلے پر بیٹھ گئے۔احباب نے بھی اردگرد حلقہ کر لیا۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد حضرت مولوی صاحب کو مخاطب کر کے حضور نے قرآن کریم کی آیت ولنبلونكم بشي من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين الذين ارا اصابتهم مصيبة۔۔۔۔۔۔الخ کی ایسی تفسیر بیان فرمائی کہ سامعین محو حیرت ہو کر رہ گئے۔جلسہ مذاہب میں شمولیت ۲-۳-۴ / دسمبر ۱۹۰۷ء دسمبر ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتے میں آریہ سماج و چھو والی لاہور نے جلسہ مذاہب کے نام پر ایک عام جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور مضمون یہ مقرر کیا کہ الہامی کتاب کونسی ہو سکتی ہے ؟ آریہ صاحبان نے جہاں دیگر تمام مذہبی لیڈروں کو اس جلسہ میں مضمون سنانے کے لئے مدعو کیا۔وہاں حضرت اقدس کی خدمت میں بھی درخواست کی کہ حضور بھی اس جلسہ کے لئے مضمون تیار فرماویں۔حضور نے آریوں کے اخلاق اور عادات کا خیال کر کے پہلے تو اعراض کرنا چاہا مگر ان کے اصرار اور اس یقین دہانی پر کہ