حیاتِ نور

by Other Authors

Page 291 of 831

حیاتِ نور — Page 291

سور ۲۹۰ اور میرے پیٹ میں سیری کی طرح نقل محسوس ہوتا تھا اور سچ مچ جس طرح کھانا کھانے سے تازگی ہو جاتی ہے وہی تازگی اور سیری مجھے میسر تھی حالانکہ نہ میں کہیں گیا اور نہ کسی اور نے مجھے کھانا کھاتے دیکھا۔“ اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا: ” میں نے خودان باتوں کا بڑا تجربہ کیا ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب کا خطبہ نکاح ۵ فروری ۱۹۰۱ء در فروری ۱۹۰۶ء کو حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی موجودگی میں استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحاق صاحب پسر حضرت میر ناصر نواب صاحب دہلوی کے نکاح کا اعلان فرمایا۔حضرت میر صاحب موصوف کا رشتہ محترمہ صالحہ خاتون صاحبہ بنت حضرت پیر منظور محمد صاحب کے ساتھ قرار پایا تھا۔انجمن کار پردازان مصالح قبرستان کا قیام اور حضرت مولوی صاحب کا پریذیڈنٹ مقرر کیا جانا ۱۶ / فروری ۱۹۰۶ ء ۱۹۰۵ء کے آخر میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے قرب وصال کے متعلق پے در پے الہامات ہونے شروع ہوئے تو حضور نے ایک رسالہ الوصیت لکھا جس میں خدائی بشارات کے ماتحت ایک مقبرہ کی تجویز فرمائی۔جس کے متعلق حضور کا منشاء تھا کہ اس میں ان صادق الا رادت لوگوں کی قبریں ہوں جنہوں نے اپنی زندگی نیکی ، تقویٰ اور طہارت میں گزاری ہو۔اور مالی اور جانی قربانیوں میں ایک شاندار مثال قائم کی ہو۔چنانچہ حضور نے الہی منشاء کے ماتحت اس مقبرہ کا نام "بہشتی مقبرہ رکھا۔اور اس میں دفن ہونے کے لئے جو شر طیں حضور نے مقرر فرما ئیں۔وہ یہ تھیں۔اول پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں دفن ہونا چاہتا ہے۔اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔دوم دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیت کرے کہ جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ