حیاتِ نور — Page 11
ـور ”میرا ایک استاد منشی قاسم علی رافضی تھا۔میں اس سے فارسی پڑھا کرتا تھا وہ مجھے کہتا۔آج بزم کا رقعہ لکھو۔آج رزم کا رقعہ لکھو۔آج بہاریہ کا رقعہ لکھو۔آج خزاں کا رقعہ لکھو۔مجھے حکم ہوا کہ آج یہ سب رقعے یاد کر کے ہمیں سُنا دو۔میں اس کو فر فر کر کے سُنا بھی دیا کرتا تھا۔شاباش لے کر ادھر جلا دیا کرتا تھا۔آٹھ آٹھ ورق کا سرنامہ میں نے پڑھا ہے۔اس سے مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ میں نے اب سرناموں کو جڑھ سے ہی کاٹ دیا ہے۔میرے سرنامے یہ ہیں۔عزیز - عزیز مکرم - مکرم - جناب - السلام علیکم جن سے مجھے محبت نہیں ہے ان کو میں صرف جناب لکھ دیتا ہوں یعنی تم اس طرف ہو میں اس طرف۔غرض ہم کو ان فضول باتوں کی ضرورت نہیں ہے " ۱۸۵۵ء میں آپ کو بھیرہ واپس آنا پڑا اور یہاں فارسی کی تعلیم کے لئے آپ کو حاجی میاں شرف الدین کے پاس بٹھایا گیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد آپ کے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد ابھی بھیرہ میں تشریف لے آئے اور انہوں نے آپ کو باضابطہ طور پر عربی پڑھانا شروع کر دیا مگر صرف میں بناؤں اور تعلیمات کا گورکھ دھندا آپ کے سامنے نہ رکھا بلکہ بہت سادہ طور پر عربی کی تعلیم شروع کرادی۔جس سے آپ کو بڑی دلچسپی پیدا ہوئی اور آپ نے بہت جلد چھوٹے چھوٹے رسائل مثل میزان الصرف اور میزان منشعب وغیرہ یاد کر لئے۔قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ جس زمانہ کا ذکر کیا جارہا ہے اس زمانہ میں قرآن کریم کا ترجمہ بہت کم لوگ جانتے تھے۔پرانے علماء عموما اس امر کی تلقین کیا کرتے تھے کہ جب تک کوئی شخص صرف ونحو، معانی، منطق و فلسفہ وغیرہ میں کافی مہارت نہ پیدا کر لے اور پھر صحاح ستہ سبقا سبقا نہ پڑھ لے اُسے قرآن کریم کا ترجمہ نہیں پڑھنا چاہئے۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ علماء میں سے بھی بہت کم لوگ قرآن کریم کا ترجمہ جانتے تھے۔خاکسار راقم الحروف کو خوب یاد ہے کہ جب میں (۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۸ء) کراچی میں بطور مبلغ متعین تھا۔اس زمانہ میں بوہرہ قوم کے لوگوں سے ملاقات رہتی تھی اور وہ بتایا کرتے تھے کہ ہمیں ہمارے علماء کی طرف سے ہدایت ہے کہ ہم قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی کوشش نہ کیا کریں کیونکہ یہ کام علماء کا ہے عوام الناس کا نہیں۔یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے قبل اور کافی عرصہ بعد بھی دیہات نقل مطابق اصل۔ورنہ در اصل نام محمد قاسم ہے۔*